18 سال بعد فوج کی نگرانی میں مردم شماری کروانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آئندہ سال مارچ میں مردم شماری اور خانہ شماری فوج کی نگرانی میں کروائی جائے گی

پاکستان کی حکومت نے آئندہ سال ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں قومی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ طویل عرصے کے بعد ملک کی آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی جائے گی۔

مشترکہ مفادات کونسل ایک آئینی ادارہ ہے، جس میں وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ شریک ہوتے ہیں۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سمیت دیگر وفاقی وزرا شریک تھے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال مارچ میں مردم شماری اور خانہ شماری فوج کی نگرانی میں کروائی جائے گی اور اس پر آنے والے اخراجات صوبے اور وفاق مل کر ادا کریں گے۔

اس سے قبل ملک میں پانچ مرتبہ آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی گئی ہے۔ پاکستان میں آخری مردم شماری اور خانہ شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔آئندہ سال یعنی مارچ 2016 میں 18 سال کے بعد مردم شماری ہو گی۔

1998 میں ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 64 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ سنہ 1998 سے 2015 تک آبادی کا پتہ لگانے کے لیے سروے تو نہ ہو سکا لیکن حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی بڑھ کر 18 کروڑ 80 لاکھ ہو گئی ہے۔

پاکستان کے کئی حلقوں نے ملک کی آبادی کا پتہ لگانے کے لیے مردم شماری میں تاخیر پر تنقید بھی کی ہے۔ ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ مردم شماری میں تاخیر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’صوبے مردم شماری کے لیے تیار نہیں تھے۔ آبادی بڑھنے یا کم ہونے سے صوبوں کو وفاق کی جانب ملنے والا فنڈ بھی کم یا زیادہ ہوتا ہے اور کوئی بھی اپنے آمدن میں کمی نہیں چاہتا۔‘

ڈاکٹر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ’آبادی کے اعداد و شمار کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوتی ہیں، ووٹ تقسیم ہوتا ہے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کے فائدے میں نہیں ہے۔‘

پاکستان کے آئین کے مطابق ہر دس سال بعد ملک میں آبادی کا تخمینہ لگانے نے لیے مردم شماری کروائی جائےگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے آئین کے مطابق ہر دس سال بعد ملک میں آبادی کا تخمینہ لگانے نے لیے مردم شماری کروائی جائےگی

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں حلال خوراک کے لیے پاکستان حلال اتھارٹی بنائی جائے گی کیونکہ بیرونی ممالک میں حلال فوڈ کی بہت بڑی مارکیٹ موجود ہے اور پاکستان حلال فوڈ برامد کر کے بڑی تعداد میں زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

مشترکہ مفادات کے اجلاس میں پاور جنریشن پالیسی 2015 کی منظوری بھی دی گئی۔

اسی بارے میں