برطانیہ الطاف حسین کو بیان بازی سے روکے: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر پر کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی: وزیر داخلہ

پاکستان کی حکومت نے برطانیہ سے کہا ہے کہ اُن کے شہری الطاف حسین پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بدنام کر رہے ہیں اور برطانوی حکومت انھیں بیان بازی سے روکنے کے لیے قانونی راستے استعمال کرے۔

یہ بات بدھ کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نےاسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر فلپ برٹن سے ملاقات میں کہی۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر داخلہ نے برطانوی ہائی کمشنر سے کہا کہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے اور اب برطانوی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ الطاف حسین کو بیان بازی سے روکے۔

نائن زیرو پر کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی

الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج

گذشتہ ہفتے رینجرز حکام نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو چھاپہ مارا تھا، اور سزا یافتہ مجرموں سمیت کئی افراد کو حراست میں لیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والی کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی تھی۔

ایم کیوایم کے رہنما الطاف حسین نے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کی شدید مذمت کی تھی اور رینجرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

وزیر داخلہ نے برطانوی ہائی کمیشن سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ان حالات میں جب آپریشن ضربِ عضب میں فوج کو کامیابیاں مل رہی ہیں، برطانوی شہری الطاف حسین کی فوج کے خلاف الزام تراشی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو سکتی ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ رینجرز حکام نے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد الطاف حسین نے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں برطانوی حکومت سے بات کرے۔

اس سے قبل نجی ٹی وی کے پروگرام میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ ریاستی ادارے ایم کیو ایم کے خلاف ہیں اور جنھوں نے بھی ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مارا وہ ’تھے‘ ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چھاپے کے دوران رینجرز نے ناجائز اسلحہ اور سزا یافتہ مجرم سمیت کئی مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا

رینجرز حکام نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین پر تضحیک آمیز گفتگو کرنے اور قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا تھا اور الطاف حسین کے خلاف کراچی کے سول لائنز مقدمہ دائر کیا ہے۔

الطاف حسین کے خلاف مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے اور مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 506 شامل ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف مقدمے میں لگائے گئے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔

رینجرز نے گذشتہ ہفتے عزیز آباد کے علاقے میں ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر پر چھاپہ مارا تھا۔ رینجرز نے دعویٰ کیا تھا کہ چھاپے کے دوران انھوں نے بڑی تعداد میں ناجائز اسلحہ اپنے قبصے میں لیا ہے اور سزا یافتہ مجرموں سمیت کئی مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ نائن زیرو پر چھاپہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مارا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں فوج کے ذریعے آپریشن ایم کیو ایم ہی کا مطالبہ تھا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرنا رینجرز اور پولیس کا استحقاق ہے۔

اسی بارے میں