ایم کیو ایم پر سنگین الزامات کے بعد صولت کی پھانسی ملتوی

Image caption صولت مرزا کی پھانسی کو 72 گھنٹے کے لیے موخر کر دیا گیا ہے

بلوچستان کی مچھ جیل میں قید سزائے موت کے مجرم اور ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سمیت جماعت کی اہم قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ الزامات ایک ویڈیو پیغام میں لگائے گئے جو ان کی پھانسی کے مقررہ وقت سے چند گھنٹے قبل بدھ کی شب پاکستان کے متعدد ٹی وی چینلز پر نشر ہوا اور اس کے بعد ان کی پھانسی پر عمل درآمد بھی 72 گھنٹوں کے لیے روک دیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور تنظیم کے رہنماؤں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھیں جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ الطاف حسین نے اس ویڈیو کے اجرا کے لیے پاکستانی ایجنسیوں کو موردِ الزام ٹھہرایا۔

مچھ جیل کے سپرٹنڈنٹ اسحاق زہری نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے پھانسی کے التوا کی تصدیق کی اور بتایا کہ انھیں بدھ کی شب احکامات موصول ہوئے ہیں کہ صولت مرزا کو مزید 72 گھنٹے تک پھانسی نہ دی جائے۔

صولت مرزا کے بیان کی ریکارڈنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انٹرویو اس جیل میں ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔ میرے علم میں نہیں کہ کہاں ریکارڈ ہوا کیونکہ صولت مچھ سے پہلے بھی کئی جیلوں میں رہ چکا ہے۔‘

ایم کیو ایم پر الزامات

ویڈیو پیغام میں صولت مرزا نے خود کو نشانِ عبرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایم کیو ایم میں شمولیت کا ارادہ رکھنے والے اور نئے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ انھیں ’دیکھیں اور عبرت پکڑیں کہ کس طرح انھیں استعمال کر کے ٹشو پیپرکی طرح پھینک دیا گیا۔‘

صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’الطاف حسین جو بابر غوری کے ذریعے ہدایات دیتے تھے، ایک دن بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کی ایم کے جو رہنما لوگوں میں مقبول ہوجاتے ہیں انھیں بھی پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔

’عظیم طارق کو الطاف حسین کی ہدایات پر مروایا گیا۔۔۔ مصطفیٰ کمال کو ذلیل کر کے نکلوایا گیا، آج وہ کہاں ہیں کوئی نہیں جانتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے اپنے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو تحفظ دیتی ہے۔

صولت مرزر نے یہ بھی کہا کہ ’ایم کیوایم کے اندر حقوق، قومیت اور نظریات کےنام پر برین واش کروا کر ہم سے کام کراوتے رہے۔‘ اور پھر جو لوگ تنظیم کے کام کے نہیں رہتے ان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

ان کے بقول ’ ایم کیو ایم کے کہنے پر پیپلز پارٹی کی حکومت میں انھیں جیل میں بھی سہولیات دی گئیں۔‘

صولت مرزا نے حکام سے اپیل کی تھی کہ ان کی سزا پر عمل درآمد میں کچھ تاخیر کی جائے۔ ’اپیل کرتاہوں کہ میری سزا کو کچھ عرصے کے لیے آگےبڑھایا جائے۔کم سے کم اتنا وقت دیا جائے کہ مزید انکشافات کر سکوں۔‘

ان کے بقول ’ایسے بہت سے ساتھی ہیں جو ملک کے اندر اور باہر اس بات کا اعتراف کریں گے کہ ایم کیو ایم نے ان سے کیا کروایا۔ وہ خوف کی وجہ سے اعتراف نہیں کر رہے۔‘

یہ پاکستانی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ سزائے موت کے کسی قیدی کی جانب سے ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں اس کی پھانسی بھی موخر کی گئی ہے۔

اس ویڈیو کے اجرا اور وقتِ اجرا پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ سزائے موت کے قیدی کی ایسی ویڈیو سزا سے چند گھنٹے قبل کس طرح جاری کی گئی اور جیل کے اندر کیمرے کی رسائی کس طرح ممکن ہو سکی۔

ایم کیو ایم کا ردعمل

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے صولت مرزا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کا بیان ان کی جماعت کے خلاف سازشی منصوبے کا حصہ ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ سزائے موت کے قیدی کی کوئی ویڈیو سزا سے محض ایک روز قبل جاری کی گئی ہے اور ثبوت کے بغیر ان پر اور ایم کیوایم پر الزامات نہیں لگائے جا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے اس طرح کا بیان ایم کیوایم کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی سازش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے انھیں بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا

الطاف حسین نے کہا کہ وہ کسی قسم کے مقدمے سے نہیں گھبراتے تاہم ان کی پاکستان واپسی کا فیصلہ لندن میں موجود ان کے قانونی مشیر کریں گے۔

نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہو ئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ صولت مرزا کے بیان سے ایم کیو ایم کے ان کارکنوں کے ذہن تبدیل نہیں کیا جا سکتے جنھوں نے’صعوبتیں برداشت کی ہیں اور جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔‘

صولت مرزا کی سزا

ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کو 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت قتل کرنے کے جرم میں 1999 میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس تہرے قتل کے علاوہ بھی ان کے خلاف قتل اور اقدام قتل کے متعدد مقدمات درج تھے۔

سکیورٹی وجوہات کی بنیاد انھیں گذشتہ سال اپریل میں کراچی سے بلوچستان کی مچھ جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔

انھیں مچھ جیل منتقل کرنے کے اقدام کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ نے احتجاج بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں