زہرہ شاہد کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلر گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ملزم پاکستان تحریک انصاف کی مقتول رہنما زہرہ شاہد کے قتل کے مقدمے میں پولیس کو مطلوب تھا

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے میں ڈیفینس میں رینجرز حکام نے زہرہ شاہد قتل کیس میں مطلوب ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق رینجرز نے ٹارگٹ کلر کو حراست میں لینے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم پاکستان تحریک انصاف کی مقتول رہنما زہرہ شاہد کے قتل کے مقدمے میں پولیس کو مطلوب تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زہرہ شاہد کو مئی 2013 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ زہرہ شاہد کی ہلاکت کے بعد تحریک انصاف نے کئی روز تک احتجاج کیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق رینجرز حکام نے ڈیفنس کے علاقے تین تلوار میں ایک مکان پر چھاپہ مارا، جہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی ملا ہے۔ رینجرز نے گرفتار ہونے والے ٹارگٹ کلر کا نام کلیم بتایا ہے۔

رینجرز کا کہنا ہے کہ ملزم دیگر مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اُن کے کارکن عبدالکلیم کو کلفٹن کے علاقے سے 25 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ کلیم کی گرفتاری کے خلاف اُن کے والدہ نے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے۔

چند روز قبل زہرہ شاہد کے قتل کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیا گیا ہے اور انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت 21 مارچ کو زہرہ شاہد قتل کیس کی سماعت کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زہرہ شاہد کی ہلاکت کے بعد تحریک انصاف نے کئی روز تک احتجاج کیا تھا

اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ زہرہ شاہد کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں زہرہ شاہد کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کی چشم دید گواہوں نے شاخت کی تھی جن کے نام راشد عرف ماسٹر اور زاہد عباس زیدی بتائے جاتے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو نے راشد عرف ماسٹر کی گرفتاری کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ ڈکیتی یا لوٹ مار کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ تھی، جبکہ ڈی آئی جی عبدالخالق شیخ کا دعویٰ تھا کہ ملزم راشد ماسٹر کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے زہرہ شاہد کے قتل کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔

رینجرز کی جانب سے کلیم کی گرفتاری پر ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ کلفٹن کے علاقے گلف شاپنگ مال میں کلیم کی درزی کی دکان ہے اور 25 فروری کو انھیں اُن کی دکان سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے تحریری بیان کے مطابق عبدالکیم کی گرفتاری پر ایم کیو ایم کے منتخب نمائندوں نے رینجرز کے مقامی افسران سے رابطہ کیا تھا جبکہ اُن کی گرفتار کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔

اسی بارے میں