کال کوٹھڑی سے پیدا ہونے والا سیاسی ابہام؟

Image caption کیا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کو سازشی یا انتقامی سیاست کہنا درست ہے؟

پچھلے چند دنوں میں کراچی کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ کیا ہوا ہے، اسے چند سطروں میں سمیٹا جا سکتا ہے۔

ایم کیو ایم کے ہیڈ آفس نائن زیرو پر پاکستان رینجرز کا چھاپہ پڑا، وہاں سے ممنوعہ اسلحہ اور چند سزا یافتہ مجرم گرفتار ہوئے، ایک رہنما عامر خان کو تحویل میں لے لیا گیا۔

ایم کیو ایم نے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے سزا یافتہ مجرموں کی نائن زیرو سے گرفتاری سے انکار کیا۔ کہا کہ رینجرز اسلحہ اپنے ساتھ لائے تھے جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے روایتی انداز میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جو کہا اسے رینجرز نے اپنے خلاف دھمکی سمجھتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی۔

یقیناً یہ ایک حیران کر دینے والا واقعہ تھا۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ حیران کن مچھ جیل کی کال کوٹھڑی سے نکلنے والا وہ ویڈیو پیغام تھا جس میں پھانسی چڑھنے سے چند گھنٹے قبل ایم کیو کیو کے رکن صولت مرزا نے الطاف حسین سمیت پارٹی کی سینیئر قیادت پر براہ راست قتل اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

اس ویڈیو پیغام کے منظر عام پر آنے کے بعد صولت مرزا کی پھانسی روک دی گئی۔

یہاں تک تو سب واضح ہے لیکن اس کے بعد صرف ابہام یا پھر سوالات۔

پہلا سوال یہ کہ صاحب اختیار کی مرضی کے بغیر پاکستان کی محفوظ ترین سمجھی جانے والی جیل کی کال کوٹھڑی میں ایک انتہائی سیاسی اہمیت رکھنے والا ویڈیو پیغام کیسے ریکارڈ اور جاری کیا جا سکتا ہے۔

مچھ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ ان کے جیل میں کسی قسم کی ریکارڈنگ نہیں ہوئی۔ اس میں سچائی ہے یا نہیں اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پچھلے 15 برسوں میں صولت مرزا کئی جیلوں میں رہ چکا ہے، اس لیے اس ریکارڈنگ کی جگہ اور وقت کا آزادانہ طور پر تعین کرنا ممکن نہیں۔

ظاہر ہے اس سے یہی سوال اٹھے گا کہ اس ویڈیو کا یکایک میڈیا کے ہاتھ لگنا ایک ایسے وقت کیوں ہوا جب ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر پر چھاپہ پڑ چکا ہے اور فوج اور حکومت کی جانب سے مزید سختی کا عندیہ مل رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption صاحب اختیار کی مرضی کے بغیر جیل کی کال کوٹھڑی میں ویڈیو پیغام کیسے ریکارڈ اور جاری کیا جا سکتا ہے؟

دوسرا سوال وزیر داخلہ کے اس بیان سے اٹھتا ہے جس میں انھیں صولت مرزا کے ویڈیو بیان کے بعد یکایک یاد آ گیا کہ عمران فاروق کے قتل کیس کی پیروی کرنا حکومت کا فرض ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے قاتلوں کو سزا ملے۔ تقریباً دو برس حکومت میں رہنے کے بعد یہ اچانک انھیں کیا خیال آیا؟

تیسرا سوال اس ایکے میں ہے جو مذہبی جماعتوں کے برعکس ایم کیو ایم کے معاملے پر پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت میں نظر آ رہا ہے۔ نہ صرف وزیر داخلہ نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر نائن زیرو پر چھاپے کو قانونی قرار دیا بلکہ صولت مرزا کی پھانسی موخر ہونے کی وجہ بھی ان کی خرابی صحت کو ٹھہرایا۔

ایم کیو ایم کا کوئی بھی وفادار اگر ان واقعات پر نظر ڈالے تو اس کا ایک ہی نتیجہ نکالے گا کہ اس کی جماعت کسی بڑی سازش کا شکار ہو رہی ہے جبکہ ان کے برعکس ایم کیو ایم کے مخالف یہی دلیل دیں گے کہ کیا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کو سازشی یا انتقامی سیاست کہنا درست ہے؟

اس صورتحال میں حقیقت کیا ہے؟ ان متضاد نقطۂ نظر میں اسے تلاش کرنا آسان نہیں۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس صورت حال میں اس حقیقت کی تلاش کسی ایک طرف کی ذمہ داری نہیں۔ سچ کو سامنے لانے کی جس قدر ذمہ داری اس وقت حکومت اور اس کے ماتحت اداروں پر ہے اتنی ہی ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت پر بھی ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کراچی میں اثرو رسوخ رکھنے والی ہر سیاسی جماعت پر ہے۔

اس میں شاید ہی کسی کو شک ہو کہ ایم کیو ایم آج بھی کراچی کی سب سے بااثر سیاسی جماعت ہے۔ لیکن حکومتی اداروں اور کراچی کے رہنے والوں سے یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس شہر میں اثر رسوخ رکھنے والی ہر جماعت میں درجنوں یا شاید سینکڑوں جرائم پیشہ افراد موجود ہیں جو پارٹی کی مرضی سے یا اس سے چھپا کر اس نوعیت کی ماورائے سیاست کارروائیاں کرتے رہتے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیر داخلہ کو صولت مرزا کے ویڈیو بیان کے بعد یکایک یاد آگیا کہ عمران فاروق کے قتل کیس کی پیروی کرنا حکومت کا فرض ہے

رات کے اندھیرے میں جیلوں کی کال کوٹھڑیوں سے جاری کیےگئے بیانات جرم کو سیاسی ابہام کی حفاظت ہی دے سکتے ہیں۔ وہ نہ تو کسی سیاسی جماعت کے سیاسی وجود کو مٹا سکتے ہیں نہ ہی اس کی قیادت کے خلاف معتبر، پائیدار اور موثر ثبوت کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

ایسے میں یہ فرض ایم کیو ایم کا بنتا ہے کہ وہ یہ سوال اپنے آپ سے کرے کہ وہ کیا وجوہات یا مجبوریاں ہیں جن کے باعث ان کے دفاتر سے سزا یافتہ مجرم برآمد ہوتے ہیں اور ان کی قیادت کو سنگین الزامات کا سامنا رہتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی حکومت وقت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اگر واقعی جرائم پیشہ افراد کے خلاف موثر کارروائی کرنا چاہتی ہے تو وہ نہ تو اپنی کارروائیوں کو کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف محدود رکھے اور نہ ہی میڈیا کی دو دھاری تلوار کو قانون پر فوقیت دے۔

حکومت کا فرض جرم کی روک تھام ہے، میڈیا میں تماشا کھڑا کرنا نہیں۔ عدالتوں سے پہلے معاملات کو میڈیا پر لانا نیک سے نیک ارادوں پر بھی ناکامی کی تلوار چلانے کے برابر ہوتا ہے۔

اور اگر حکومت یہ کہے کہ اسے کچھ خبر نہیں کہ ایک سزا یافتہ مجرم کا ایک انتہائی متنازع ویڈیو بیان اس کی پھانسی سے چند گھنٹوں قبل میڈیا کے ہاتھ کیسے لگ جاتا ہے تو ایسی حکومت کے ارادوں کی نیکی یا قابلیت پر کون اعتبار کرے گا؟

اسی بارے میں