ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کا قریبی ساتھی ہلاک

Image caption پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان میں طالبان نے پاک افغان سرحدی علاقے میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں اپنے ایک کمانڈر کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان کے دو انٹیلیجنس اہلکاروں نے جمعرات کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحدی علاقے میں امریکی ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے میں ان کا کمانڈر خاورے محسود ہلاک ہو گیا ہے۔

طالبان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والا کمانڈر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امریکی ڈرون حملے میں ہی ہلاک ہونے والے سربراہ حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی اور ذاتی محافظ تھا۔

پاکستان اپنے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کئی بار سفارتی سطح پر امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ ڈرون حملے ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں اور اس سے شدت پسندی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان نے بھی حالیہ دنوں پاکستان کی سرحد کے قریب شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں

ماضی میں پاکستان میں بعض سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج بھی کر چکی ہیں جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت تحریک انصاف نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجاً صوبے سے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو رسد کی سپلائی بھی گزرنے سے روک دی تھی۔

امریکی ڈرون حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت شروع ہونے کے بارے میں اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

ماضی میں افغانستان الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں اور یہ وہاں سے افغانستان کی سرزمین پر حملے کرتے ہیں جبکہ پاکستان ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی سرزمین پر فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسند فرار ہو کر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہو گئے ہیں اور وہاں سے اس کی سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد حالیہ دنوں افغان سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں روپوش شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیے ہیں۔

اسی بارے میں