’پھانسیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ نے پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد کے نتیجے میں ہونے والی پھانسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ پھانسیوں پر عائد پابندی کو جلد بحال کرے۔

اقوام متحدہ نے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ مجرموں کو سزائے موت دینا سے جرائم یا شدت پسندی میں کمی کے شواہد نہیں ملے ہیں اور بین الااقوامی قوانین کے تحت پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ پھانسیوں پر عملدرآمد روکے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ سزائے موت عملدرآمد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

گذشتہ سال پشاور میں فوج کے زیرِ اہتمام چلنے والے سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ آرمی پبلک سکول پر طالبان کے مہلک حملے میں 134 بچوں سمیت ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پہلے مرحلے میں دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث افراد کی سزا پر عملدرآمد شروع ہوا لیکن حال ہی میں حکومت نے سزائے موت پر عائد عارضی پابندی مکمل طور پر اُٹھا لی ہے۔ جس کے بعد دہشت گردی کے جرائم میں سزا پانے والے مجرموں کے ساتھ ساتھ دوسرے مجرموں کو بھی تختہِ دار پر لٹکایا جا رہا ہے۔

اس سے قبل پچھلے چھ برس سے پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل تھا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں آٹھ ہزار قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ نے اپنے بیان میں سزائے موت پانے والے ایک نابالغ مجرم شفقت حسین کے معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا مجرم جس نے 18 سال سے کم عمر میں کوئی جرم کیا ہو، اُس کی سزا ختم کی جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ زندہ رہنا کسی بھی شخص کا بنیادی انسانی حق ہے۔

سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ’ اکیسویں صدی میں پھانسی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ دنیا میں سزائے موت دیے جانے کا رجحان ختم ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کے 160 سے زائد رکن ممالک میں مختلف طرح کے قوانین، رسم و رواج اور مذہبی رجحانات پائے جاتے ہیں، یا تو انھوں نے سزائے موت دینا ختم کر دی ہے یا پھر پھانسیوں پر عملدارآمد روک دیا ہے۔‘

ادھر اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے کمشنر نے پاکستان میں پھانسی دیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کوئی بھی عدالت مکمل طور پر بے خطا نہیں ہو سکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دسمبر 2014 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پھانسیوں پر پابندی کے حوالے سے قراردار پیش کی گئی اور 117 ممالک نے سزائے موت کے عملدرآمد پر پابندی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پھانسیوں پر دوبارہ پابندی عائد کرے اور ملک میں رائج عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے وہ پاکستان کرنے کو تیار ہے۔

اس سے قبل بھی سیکریٹری جنرل بان کی مون نے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان میں پھانسیوں پر عمل درآمد بند کر کے اس پر عائد پابندی دوبارہ بحال کی جائے جبکہ یورپی یونین نے بھی پھانسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہونے والی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانونی نظام ہے اور عوام کی جان کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اسی بارے میں