پاکستان کی سمندری حدود میں اضافے کا مطالبہ منظور

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 2009 میں پاکستان کی سمندری حدود میں اضافے کے دعوے کا جائزہ لینے کے لیے سروے کیا گیا تھا

اقوام متحدہ نےسمندری حدود بڑھانے کے لیے پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اس کی سمندری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق پاک بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملکی سمندری حدود کو 50 ہزار مربع کلومیٹر تک بڑھایا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنے سے ملکی وسائل میں اضافہ ہو گا۔

’پاکستان خطے میں پہلا ملک ہے جس کی سمندری حدود میں اضافہ کیا گیا ہے۔‘

سن 2005 میں پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے سمندی حدود سے متعلق کمشن یو این سی ایل او ایس میں 200 سے 350 بحری میل تک اپنی سمندری حدود میں اضافے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ چار سال بعد اقوام متحدہ نے اسے تسلیم کیا اور اس کا سروے مئی 2009 میں کیا گیا جس پر 50 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

سمندی حدود کی توسیع کے لیے تیار کیے جانے والے اس دعوے کی تیاری میں وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی اور بحری جغرافیہ سے متعلق ادارے این آئی او نے مشترکہ طور پر حصہ لیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے وفد کی سربراہی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کی۔ انھوں نے دس مارچ کو اقوام متحدہ میں سمندری حدود کی توسیع کے لیے اپنے ملک کا موقف پیش کیا۔

اقوامِ متحدہ کے کمشن نے پاکستان کی سمندری حدود میں 19 مارچ کو 150 بحری میل تک اضافے کی منظوری دی۔

سمندری حدود میں اضافے سے پاکستان کو اس علاقے میں موجود سمندری وسائل پر بھی مکمل کنٹرول مل جائے گا۔

اسی بارے میں