پشاور کی امامیہ مسجد پر حملے کا اہم ملزم گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انسداد دہشت گردی فورس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ امامیہ مسجد حیات آباد پر حملے کے منصوبہ سازوں تک وہ پہنچ گئے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی امامیہ مسجد پر حملے کے لیے حکام کے مطابق خود کش حملہ آور پشاور کے مضافات میں واقع علاقے چمکنی میں رہے اور پھر حملے کے لیے تین خود کش حملہ آوروں کو حیات آباد پہنچایا گیا۔

اس منصوبے میں شامل ایک اہم ملزم کو انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں نے جمعے گرفتار کیا ہے۔

پشاور کی امامیہ مسجد میں خودکش دھماکے، 20 ہلاک

پشاور میں انسداد دہشت گردی فورس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امامیہ مسجد حیات آباد پر حملے کے منصوبہ سازوں تک وہ پہنچ گئے ہیں اور اب مزید گرفتاریاں بھیں متوقع ہیں۔

انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گرفتاری حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں اہم کامیابی ہے۔

پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے فیز پانچ میں امامیہ مسجد پر گذشتہ ماہ کی تیرہ تاریخ کو جمعہ نماز کے وقت دستی بموں اور خود کش

دھماکوں سے حملہ کیا گیا تھا جس میں 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس وقت ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں کہ اس حملے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی تھی جسے حملے سے پہلے آگ لگا دی گئی تھی۔

حکام نے بتایا کہ حیات آباد میں واقع امامیہ مسجد پر حملے میں ملوث گروہ نے حملے سے پہلے پشاور کے مضافات میں چمکنی کے علاقے میں ایک مکان میں رہے تھے اور یہیں پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

امامیہ مسجد پر حملہ ویسے ہی کیا گیا تھا جیسے 16 دسمبر کو شدت پسندوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملہ کیا تھا۔ حملوں سے پہلے گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور پھر عقبی راستوں سے دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے تھے۔

انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکار نے بتایا کہ حیات آباد میں امامیہ مسجد پر حملے میں تین خود کش حملہ آوروں کو استعمال کیا گیا تھا اور ان تینوں کو یہاں مسجد تک پہنچانے والے ایک اہم رکن کو چمکنی کےعلاقے سے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ انھیں یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ملزم کامکان چمکنی میں ہے اور وہ خیبر ایجنسی سے یہاں پہنچ رہا ہے جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے ملزم کی عمر 25 سال اور تعلق خیبر ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس گروہ کا تعلق درہ آدم خیل سے ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نےبتایا کہ جس گروہ کے رکن کو گرفتار کیا گیا ہے یہ گروہ چمکنی

میں خود کش حملوں کے علاوہ بھتہ خوری میں بھی ملوث رہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گروہ نے پشاور اور خیبر ایجنسی میں بارہ خود کش حملے کیے اور چھ دیسی ساختہ بموں کے دھماکے کیے گئے۔

زرائع کے مطابق جن تین خود کش حملہ آوروں کو اس کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا ان کے نام خیبر محمد ، شاہ فہد اور عمر بتائے گئے ہیں۔

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں ان دنوں سرچ اینڈ سٹرائک آپریشن بھی جاری ہے جس میں مشتبہ مقامات پر پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکار مشترکہ کارروائیوں کرکے شت پسندوں ، غیر ملکیوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں