’انکاری والدین کی گرفتاری تبدیلی تو نہیں، یہ جبری عمل ہے‘

Image caption امید ہے کہ پاکستان نے جو ہنگامی اقدامات اپنائے ہیں، وہ رنگ لائیں گے: مشیل تھیئرغیں

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں پولیو کے قطرے پلوانے سے انکاری والدین کو گرفتار کرنے کے عمل کا حامی نہیں۔

ادارے کے مطابق یہ ایک جبری عمل ہے اور اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ایسے چار لاکھ بچوں کو قطرے پلائے گئے ہیں جو پچھلے دو سال میں ویکسین پینے سے محروم رہے تھے۔

عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان کے لیے سربراہ مشیل تھیئرغیں نے بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ اگر بچوں کو والدین کو گرفتار کیا جائے تو یہ رویوں میں تبدیلی نہیں ہو گی۔

’یہ تبدیلی تو نہ ہوئی، یہ تو جبری عمل ہے۔ ہمیں تبدیلی تو لانی ہو گی لیکن ان گرفتاریوں کا کیا اثر ہو گا، اس کا فیصلہ میں ان لوگوں پر چھوڑوں گا جنھوں نے یہ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کا ادارہ ایسی حکمتِ عملی کی حمایت کرتا ہے جس میں عوام کو ساتھ لے کر چلا جائے کیونکہ زبردستی کرنے سے اس کے خلاف ردِ عمل سخت ہو سکتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت اس عمل کی سفارش نہیں کرتا۔

’ہم ہمیشہ آبادیوں میں آگاہی کی مہم اور برادری کے مذہبی اور علاقے کے بااثر لوگوں کے توسط سے اپنا پیغام پہنچانے کی حمایت کرتے ہیں۔ شاید ایسا لگے کہ یہ بےمعنی سی بات ہے جسے ہم سال ہا سال دہراتے ہیں لیکن یہ کامیاب حکمتِ عملی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کی مہمات کے دوران فاٹا، صوبہ خیبر پختونخوا اور کراچی کے بعض علاقوں میں چار لاکھ بچوں کو قطرے پلائے گئے ہیں۔

’یعنی ان بچوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جن تک ہماری رسائی پہلے نہ تھی۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے صحت کے انصاف پروگرام کے منصوبے کو کراچی کے مشکل علاقوں میں استعمال کیا گیا ہے جو بہت کامیاب رہا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ شاید اس کامیابی سے پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں بہت جلد کمی نظر نہ آئے تاہم امید ہے کہ پاکستان نے جو ہنگامی اقدامات اپنائے ہیں، وہ رنگ لائیں گے۔

’پاکستان پولیو کے مسئلے پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سطح پر اس پر کام کیا جا رہا ہے، خوا وہ وزیرِ اعظم ہوں یا وہ کارکن جو بچوں کو قطرے پلاتا ہو۔ اس عزم کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن عزم ہے، اس کے باوجود کہ اعداد و شمار اچھے نہیں ہیں۔ 306 کیس ایک بری خبر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’جب تک پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، پاکستان کو اپنی کوشش جاری رکھنی ہوں گی‘

تاہم ڈاکٹر مشیل تھیئرغیں نے یہ بھی کہا پولیو کارکنان کے عزم کو برقرار رکھنے کے لیے ان پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔

’انسدادِ پولیو کارکنان میں جذبہ بہت ہے۔ لیکن ان کارکنان میں کب تک یہ جذبہ برقرار رہ سکتا ہے جب سکیورٹی اور تحفظ کے مسائل حل نہیں ہو پائیں گے۔ پھر بھی میں کہوں گا کہ ان کارکنان میں بچوں کو محفوظ رکھنے کا یقین بہت پختہ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بہت افسوس ناک بات ہے کہ ان کارکنوں کو وقت پر تنخواہیں نہیں ملتی رہیں لیکن اس کا جائزہ لیا جا چکا ہے اور تنخواہوں کے مسئلے کا حل نکالا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جب تک پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، پاکستان کو اپنی کوشش جاری رکھنی ہوں گی۔

’20 کروڑ کی آبادی میں یہ مہم چلانا (مشکل کام ہے)، تھکن تو ہو جاتی ہے۔ پاکستان کام کر رہا ہے اور ابھی تک آخری ملک ہے جہاں پولیو وائرس عام ہے۔ ہمیں وائرس کے خلاف بار بار کام کرنا ہو گا اور بار بار آبادیوں میں جانا ہو گا۔‘

اسی بارے میں