’آپریشن خیبر ٹو میں 80 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر ایجنسی تین سب ڈویژنوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر مشتمل ہے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن ’خیبر ٹو‘ کے دوران اب تک 80 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجرجنرل عاصم باجوہ نے سنیچر کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ آپریشن کے دوران سے تقریباً 100 دہشت گرد زخمی ہوئے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک آپریشن خیبر ٹو کے دوران پاکستانی فوج کے سات اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران قبائلی علاقے کا مزید علاقہ دہشت گردوں سے صاف کر دیا گیا ہے اور پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب کارروائیاں جاری ہیں جن میں دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ان کے مطابق دہشت گرد اب خیبر ایجنسی میں اپنے ٹھکانوں سے افغان سرحد کی جانب فرار ہو رہے ہیں اور ان کے مکمل خاتمے تک آپریشن پوری طاقت سےجاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption اکتوبر 2014 میں خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تھا جو دو مرحلوں خیبر ون اور خیبر ٹو پر مشتمل ہے

خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے رواں ماہ کی 13 اور 18 تاریخ کو خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائیوں میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم دہشت گردوں کی شناخت یا ان کے تنظیمی تعلق کے بارے میں فوج کے بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

خیبر ایجنسی تین سب ڈویژنوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر مشتمل ہے اور یہاں گذشتہ سال اکتوبر میں باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری تھیں۔

اس فوجی آپریشن اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں سے لوگ بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں