آخری سانسیں لیتا قدیم شہر

موئنجودڑو
Image caption موئنجودڑو جنوبی ایشیا میں سب سے اہم ترین تاریخی آثارِ قدیمہ میں سے ایک ہے

موئنجودڑو دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی رضیہ اقبال کہتی ہیں کہ دریائے سندھ کے کنارے قائم اس تاریخی اور قدیم شہر کی دیکھ بھال پاکستانی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

زبانوں میں دلچسپی لینے والی ایک طالب علم کے حوالے سے میں سمجھتی ہوں کہ بعض الفاظ کے مرکب میں جادو چھپا ہوتا ہے، جس طرح قبلائی خان، زینادو اور نینوا۔ سو آپ لفظ موئنجودڑو کو آہستہ آہستہ زبان پر لائیں۔ میں آپ کو اس قدیم شہر کے متعلق بتاتی ہوں جو کہ دریافت تو 100 سال پہلے ہوا تھا لیکن وہ 4,000 سال پہلے اپنے عروج پر تھا۔

یہ پاکستان کے صوبے سندھ میں دریائے سندھ کے کنارے کھڑا مصر اور میسوپوٹیمیا کی برابری کرتا ہے۔

موئنجودڑو ایک ایسا شہر تھا جس کی بہت مؤثر انداز سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اس میں زبردست سہولیات مہیا کی گئی تھیں۔ اس کے گھروں میں اینٹوں کے بنے غسل خانے تھے، بہت سوں میں تو ٹوائلٹ یا طہارت خانے بھی موجود تھے۔ گندے پانی کے نقاص کا خصوصی انتظام تھا اور یہ پانی ڈھکی ہوئی نالیوں میں بہتا ہوا شہر سے گزرتا تھا۔

یہاں سے ملنے والے بہت سے نوادرات میں سے ایک 10 سینٹی میٹر لمبا کانسی سے بنا ہوا مجسمہ ہے۔ اسے ناچنے والی لڑکی مجسمہ کہا جاتا ہے جو کولہے پر ہاتھ رکھے منہ آگے کر کے کھڑی ہے۔ اس سے نہ صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ سندھ کے لوگ دھات سے چیزیں بنانے میں کتنی مہارت رکھتے تھے بلکہ اس سے ان کے آرٹ، معاشرے اور عورتوں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔

موئنجودڑو کی تاریخی اہمیت کی وجہ سے یونیسکو نے اس کو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ یا عالمی ورثہ کی جگہ قرار دیا ہے۔ مجھے اس بات پر بہت دکھ ہوا کہ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سیاحت اور ورثہ پاکستان حکومت کے ایجنڈے پر نہیں۔ حکام سکیورٹی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں بہت مصروف ہیں۔

میں یہ نہیں کہوں گی کہ یہ بہت مصروف سیاحتی مرکز ہے، بہت کم پاکستانی یہاں آتے ہیں اور ہم ادھر موجود 20 یا 30 افراد میں شامل تھے۔ ہم نے اس کے قریب چھوٹے سے میوزیم کی سیر کی جس میں حالانکہ بہت دلچسپ اور نادر اشیا موجود تھیں لیکن انھیں بری طرح رکھا گیا تھا اور وہاں روشنی بہت کم تھی۔ باہر ناچنے والی لڑکی کو نمائش کے لیے رکھا گیا تھا لیکن یہ اصلی مجسمہ نہیں تھا۔ اصل اب دہلی میں ہے۔

ہم نے شہر کی سیر شروع کی جو کہ اپنے آپ میں بھی ایک حیرت انگیز چیز ہے۔ صاف ستھرے اینٹوں کے بنے ڈھانچوں کا ایک بڑا نیٹ ورک، قابلِ شناخت گلیاں اور ایک ایسی جگہ جس کے متعلق یہ سوچنا بڑا آسان ہے کہ اس کے 35,000 شہریوں کی زندگی یہاں کیسی ہو گی۔

حیرت انگیز طور پر صرف اس کے ایک چھوٹے حصے کی کھدائی کی گئی ہے۔ ہمارے ساتھ ایک لکھاری ماہا خان فلپس بھی تھیں جو ایک قدیم شہر کی زندگی پر ایک ناول لکھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اکثر سوچتی ہیں کہ ایسا تو نہیں کہ اس میں دبی چیزوں کی حفاظت کے لیے ہی انھیں کھود کر نکالا نہیں جا رہا۔

اکثر دیواریں گر رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں موجود پانی میں نمک کی مقدار اینٹوں کو تباہ کر رہی ہے۔ یہ وہ اینٹیں ہیں جن کا ہزاروں سال کچھ نہ بگاڑ سکے تھے۔

لیکن پھر بھی یہ ایک غیر معمولی جگہ ہے۔ اس کے مرکز میں ایک بہت بڑا بودھ سٹپا موجود ہے۔ موئنجودڑو کا مطلب موت کا ٹیلا ہے۔ پاکستان کے 20 روپے کے نوٹ پر اس کی تصویر ہے۔

زین مصطفیٰ جو اب پاکستان میں رہتے ہیں کہتے ہیں کہ موئنجودڑو سے آج کا پاکستان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ 1947 کے بعد آزاد ہونے والے اس ملک کے پاس اپنے قدیم شہر کی کامیابیوں پر جشن منانے کے لیے بہت کچھ ہے۔

لیکن اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ کیوں ایسی جگہ میں دلچسپی نہیں لی جا رہی جو ہمیں شہری منصوبہ بندی اور ملک کی تاریخ کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہے۔ حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ میں قدیم مقامات کی خوفناک تباہی سے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ اس جگہ کی حفاظت کی جائے۔

جس دن میں موئنجودڑو پہنچی تو وہاں کوئی گائیڈ نہیں تھا جو ہمارے پیچھے پیچھے آتا۔ کوئی پوسٹ کارڈ نہیں، کوئی سوینیئر نہیں اور نہ ہی جگہ کہ متعلق کوئی تعارفی مواد۔ وہاں کچھ انٹیلیجنس والے یا بندوق بردار سکیورٹی گارڈ موجود تھے جو غیر ملکیوں کے پاسپورٹ چیک کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔ میرے کچھ ساتھیوں نے کہا کہ آثارِ قدیمہ کے کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ جس رفتار سے یہ شہر تباہ ہو رہا ہے یہ دو دہائی بھی قائم نہیں رہ سکے گا۔

میں نے وہ نظریے بھی سنے کہ ہزاروں سال پہلے یہ تہذیب کس طرح تباہ ہوئی: ’کیا وہ قتلِ عام تھا، یا سیلاب اور بیماری، یا کسی قسم کا دھماکہ تھا، ایک آگ کا گولہ یا شہابِ ثاقب۔ لیکن اب یہ بہت معمولی چیز سے تباہ ہو رہا ہے اور وہ ہے اسے نظر انداز کرنا اور دلچسپی میں کمی۔‘

اگلے برس ایک بالی وڈ فلم ریلیز ہو رہی ہے جس کا نام ہی موئنجودڑو ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے اس شہر میں زیادہ دلچسپی پیدا ہو۔ اگرچہ یہ فلم یہاں نہیں بنائی جا رہی لیکن اس بات سے ہی پاکستان میں کچھ ہلچل پیدا ہو سکتی ہے کہ انڈیا اس میں دلچسپی لے رہا ہے جس سے شاید حکام اپنی تاریخ کے اس اہم باب کو بچانے کی کچھ کوشش کریں۔

اسی بارے میں