مستونگ میں آئل ٹینکرز پر حملہ، ڈرائیور اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئل ٹینکروں پر حملے اور اغوا کی ذمہ داری کالعدم تنظیم یونائیٹیڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں شدت پسندوں نے حملہ کر کے پانچ آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا اور چار ڈرائیوروں کو اغوا کر لیا ہے۔

یہ واقعہ پیر کی صبح صوبے کے پسماندہ ضلع کردگاپ کے علاقے سربند میں پیش آیا۔ مستونگ میں لیویز فورس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کی زد میں آنے والے پانچ آئل ٹینکر کراچی سے تیل لے کر بلوچستان کے ضلع چاغی جار رہے تھے، کہ اُن پر شدت پسندوں نے حملہ کیا۔

آئل ٹینکروں پر حملے اور اغوا کی ذمہ داری کالعدم تنظیم یونائیٹیڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ آئل ٹینکر چاغی میں واقع سائیندک پراجیکٹ کے لیے تیل لے جارہے تھے۔

اس سے قبل بھی بلوچستان کے کئی علاقوں میں افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان اور ایندھن فراہم کرنے والے آئل ٹینکروں اور کنٹیرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطبق آئل ٹینکروں نے چاغی جانے والی شاہراہ آر سی ڈی روڈ پر سفر کرنے کے بجائے اپنے سفر چھوٹا کرنے کے لیے دوسری شاہراہ پر سفر کر رہے تھے، جو منگیچر کے علاقے سے گزرتی ہے۔

جب یہ ٹینکر سربند کے علاقے سے گزر رہے تھے تو نامعلوم مسلح افراد نے اُن پر حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں نہ صرف آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچا بلکہ ان میں موجود تیل بھی ضائع ہوگیا۔

مسلح حملہ آوروں نے پانچ ٹینکروں میں سے چار کے ڈرائیوروں کو اغوا کیا اور انھیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔ آئل ٹینکروں پر حملے اور ڈرائیوروں کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔

ضلع مستونگ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے جنوب مغرب میں تقریبا 40 کلومیٹر دور واقع ہے۔ شورش زدہ صلع مستونگ میں اس سے قبل بھی شدت پسندوں نے آئل ٹینکروں اور ایران جانے والے زائرین کی بسوں کو نشانہ بنایا ہے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقے میں سکیورٹی بڑھانے کے بعد شدت پسندوں کے حملوں میں کمی آئی ہے۔

اسی بارے میں