حکومت کا ای سی ایل کی پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ای سی ایل کے بارے میں نطرثانی پالیسی کے تحت اُن افراد کے نام اس فہرست میں شامل کیے جائیں گے جو سنگین جرائم میں مطلوب ہوں گے

وفاقی حکومت نے گذشتہ چار دہائیوں سے قائم ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل کی پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں ایک اجلاس آئندہ چند روز میں طلب کیا گیا ہے جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کریں گے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ای سی ایل میں ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جو معمولی جرائم میں ملوث ہیں اور جن کے خلاف دائر مقدمات میں مقامی عدالتیں نہ صرف اُنھیں بری کرچکی ہیں بلکہ اُن کے خلاف مقدمات بھی ختم ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک ان کے نام اس لسٹ میں موجود ہیں۔

راولپنڈی کے علاقے مصریال روڈ کے ایک شہری نذیر احمد بھی ایسے افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف درج مقدمہ ختم ہوئے بھی بیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک اُن کا نام ای سی ایل میں ہے۔

اُن کے بیٹے تبسم نذیر کے مطابق سنہ 1995 میں اُن کے والد کے خلاف جعلی چیک دینے کا مقدمہ درج ہوا اور اُس وقت راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما نے اس وقت کے وزیر داخلہ کو کہہ کر اُن کے والد کا نام ای سی ایل میں شامل کروا دیا جو بارہا سفارشوں کے باوجود ابھی تک اُن کا نام اس لسٹ سے نہیں نکلوایا جاسکا۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کے والد کو فوت ہوئے بھی پانچ سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ایف ائی اے اور مقامی پولیس کے اہلکار اُن کے گھر کا چکر لگاتے ہیں جبکہ اُنھیں اصل صورت حال کے بارے میں آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption چوہدری نثار نے دعوی کیا ہے کہ اُنھوں نے بطور وزیر داخلہ نہ تو کسی کا نام ای سی ایل میں شامل کیا ہے اور نہ ہی نکالا ہے

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق سپریم کورٹ نے سنہ 2009 میں قومی مصالحتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کے بعد ای سی ایل پر نظر ثانی کرنے کے احکامات بھی دیے تھے تاکہ اگر سنگین جرائم میں ملوث افراد کے نام اس لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں اُنھیں دوبارہ اس لسٹ میں شامل کیا جائے تاہم اس فیصلے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔ اہلکار کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار افراد کی اس فہرست میں اُن افراد کی بھی ایک خاصی تعداد ہے جنہیں سیاسی اختلافات کی وجہ سے اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق عدالتی احکامات کی روشنی میں ای سی ایل سے نکالےگئے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تحققیات کرنے والے پنجاب پولیس کے ایڈیشنل آئی جی چوہدری عبدالمجید کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اُن کا نام اس لسٹ سے خارج کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق اس فہرست میں شامل سب سے زیادہ افراد کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ لاہور، گجرات اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والوں کی ایک خاصی تعداد اس فہرست میں شامل ہے۔

چوہدری نثار نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے بطور وزیر داخلہ نہ تو کسی کا نام ای سی ایل میں شامل کیا ہے اور نہ ہی اُن کے کہنے پر کسی کا نام اس لسٹ سے نکالا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق ای سی ایل کے بارے میں نطرثانی پالیسی کے تحت اُن افراد کے نام اس فہرست میں شامل کیے جائیں گے جو قومی احتساب بیورو، ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنگین جرائم میں مطلوب ہوں گے جبکہ معمولی جرائم میں ملوث افراد کو اس فہرست میں شامل کرنے سے اجتناب کیا جائے گا۔

اسی بارے میں