چار ماہ میں 50 سے زائد قیدی تختہ دار پر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دس مارچ کو حکومت نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد پر عائد عارضی پابندی کو مکمل طور پر اٹھا لیا

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں علی الصبح نصراللہ نامی شخص کو پھانسی دے دی گئی۔دسمبر 2014 سے سزائے موت پر سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد اب تک پاکستان میں 50 سے زائد افراد کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

نصراللہ کو منگل کی صبح ملتان سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔ ان پر 1994 میں مظفرگڑھ میں پیشی پر عدالت میں ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

1994 میں ہی انھیں مظفرگڑھ کی ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے خلاف انھوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی تاہم عدالتوں نے ان کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ جس کے بعد انھوں نے صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

پاکستان نےدسمبر میں پشاور سکول حملے کے بعد پہلے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پر سے پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم رواں ماہ کے اوائل میں تمام صوبائی محکمہ داخلہ کو مراسلہ بھجوایا گیا تھا جس میں تمام مقدمات میں موت کی سزا پانے والے ایسے قیدیوں کی سزاوں پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی تھی جن کا قانونی عمل مکمل ہو چکا ہو اور جن کی تمام اپیلیں مسترد کی جا چکی ہوں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور خاص طور پر یورپی یونین نے پاکستان میں سزائے موت پر عائد سات سالہ پابندی کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ سزائے موت پر پابندی برقرار رکھے۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً آٹھ قیدی موت کی سزا پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

اسی بارے میں