زیادہ تر سیاسی جماعتوں کی انتخابی کمیشن کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے عدالتی کمیشن کی حمایت کی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف نے منگل کو پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور انھیں عدالتی تحقیقات کے معاملے پر اعتماد میں لیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ تمام جماعتوں کو ملک کی ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے خدشات بات چیت کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں اور پوری توجہ ملک کو درپیش دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مسئلے سمیت تمام چیلنجز کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

اس موقعے پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف کو اب اسمبلیوں میں واپس آ جانا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے مابین ایک معاہدے پر اتفاق ہوا ہے۔ جس کے تحت انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدلتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف نے دھاندلی کی تحقیقات نہ کرنے پر اسلام آباد میں حکومت خلاف دھرنا دیا اور یہ احتجاجی دھرنا کئی ماہ تک جاری رہا۔

پارلیمیٹ ہاوس کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں رحمان ملک نے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے حقائق کو عوام کے سامنے لایا جایا۔

اس سے قبل حکومت نے کہا تھا کہ عدالتی کمیشن پر تمام سیاسی جماعتوں سے رائے لی گئی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے کمیشن کے قیام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دھاندلی کی تحققات کے لیے عدالتی کمیشن آئین کی خلاف ہے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اُن کی جماعت نے کمیشن کے قیام کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ یہ آئین کے آرٹیکل 225 اور 189 کی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ نواز پر الزام عائد کیا ہے کہ اُنھوں نے عام انتخابات 2013 میں دھاندلی کی اور تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا ہے۔

تحریک انصاف نے دھاندلی کی تحقیقات نہ کرنے پر اسلام آباد میں حکومت خلاف دھرنا دیا اور یہ احتجاجی دھرنا کئی ماہ تک جاری رہا۔ دھرنے کے دوران بھی پارلیمان میں شامل جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیا تھا۔

پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے پر متفق ہوئی ہے اور دھاندلی کی تحقیقات کے لیے ’عام انتخابات 2013 کی تحقیقاتی کمیشن آرڈینیس 2014 ‘جاری کیا گیا ہے۔

آرڈینیس کے تحت جوڈیشل کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کرے کہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں قانون کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں اور عام انتخابات کے مجموعی نتائج شفاف اور منصفانہ عوامی مینڈیٹ کا مظہر ہیں یا نہیں۔

جوڈیشل کمیشن کوعام انتخابات میں دھاندلی کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن سے متعلق تمام دستاویزات کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اسی بارے میں