صولت مرزا کی پھانسی اب یکم اپریل کو

Image caption صولت مرزا کی پھانسی خرابی صحت کی بِنا پر موخر ہوئی: وفاقی حکومت

پاکستان کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیےگئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل میں قید صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ دوسری مرتبہ جاری کیے گئے ہیں۔

مچھ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اسحاق زہری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ صولت مرزا کو یکم اپریل کی صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی دیے جانے کے لیے حکم نامہ ملا ہے، تاہم انھوں نے صولت مرزا کی صحت کے بارے میں کسی قسم کی معلومات دینے سے معذرت کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی تک جیل حکام کو یہ نہیں بتایا گیا کہ صولت مرزا کوئی بیان دیں گے یا نہیں۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان نے صولت مرزا کے اعترافی ویڈیو بیان کی ریکارڈنگ کی تحقیقات کے لیے چار کر رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

کمیٹی کے سربراہ آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان بشیر احمد بنگلزئی ہوں گے۔ جبکہ دیگر تین اراکین میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات، ڈپٹی سیکرٹری داخلہ فور، سپریٹینڈنٹ مچھ جیل شامل ہیں۔

کمیٹی کا دائرہ کار یہ پتہ لگانا ہوگا کہ صولت مرزا کی ریکارڈنگ مچھ جیل میں ہوئی یا نہیں۔

ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کو 19 مارچ کی صبح پھانسی دی جانی تھی لیکن ان کی جانب سے ایم کیو ایم اور اس کے رہنما الطاف حسین کے خلاف سنگین الزامات کی ایک وڈیو سامنے آنے کے بعد پھانسی سے کچھ گھنٹے قبل اس پر عمل درآمد کو 72 گھنٹے کے لیے موخر کر دیا گیا تھا۔

اسی روز پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے اقومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ صولت مرزا کی پھانسی ان کی صحت کی خرابی کی وجہ سے موخر کی گئی ہے۔

ایم کیو ایم پر الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے: صولت مرزا کا الزام

یاد رہے کہ 18مارچ کی شب ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ویڈیو پیغام میں صولت مرزا نے خود کو نشانِ عبرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ تنظیم کے کام کے نہیں رہتے ان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایم کیو ایم میں شمولیت کا ارادہ رکھنے والے اور نئے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ انھیں ’دیکھیں اور عبرت پکڑیں کہ کس طرح انھیں استعمال کر کے ٹشو پیپرکی طرح پھینک دیا گیا۔‘

صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’الطاف حسین بابر غوری کے ذریعے ہدایات دیتے تھے، ایک دن بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے۔‘

صولت مرزا نے حکام سے اپیل کی تھی کہ ان کی سزا پر عمل درآمد میں کچھ تاخیر کی جائے تاکہ وہ مزید انکشاف کر سکیں اور ان کے ’ایسے بہت سے ساتھی ہیں جو ملک کے اندر اور باہر اس بات کا اعتراف کریں گے کہ ایم کیو ایم نے ان سے کیا کروایا۔ وہ خوف کی وجہ سے اعتراف نہیں کر رہے۔‘

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے صولت مرزا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کا بیان ان کی جماعت کے خلاف سازشی منصوبے کا حصہ ہے۔

ادھر سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بھی جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں صولت مرزا کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے انھیں جیل میں کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم کی گئی۔

اسی بارے میں