سندھ میں چینی زبان سکھانےکی یاداشت پر دستخط

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سندھ میں چھٹی کلاس سے میٹرک تک چینی زبان لازمی پڑھائی جائے گی اور اس فیصلے پر تین سال کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے طالب علموں کی چینی زبان سکھانے کے لیے چین سے یادداشت نامے پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت نے 2011 میں صوبے میں چھٹی کلاس سے بچوں کو چینی زبان لازمی سکھانے کا اعلان کیا تھا جس پر 2013 سے عملدرآمد ہونا تھا لیکن تین سال بعد رواں سال 24 مارچ کو یادداشت نامے پر دستخط ہوسکے ہیں۔

کراچی میں سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں یادداشت نامے پر دستخط کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو، سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو اور چین کے صوبے سی شوان کے محکمہ تعلیم کے نائب ڈائریکٹر جنرل لیو ڈنگ شرکت کی اور یادداشت نامے پر دستخط کیے۔

یادداشت نامے کے مطابق سندھ میں چھٹی کلاس سے میٹرک تک چینی زبان لازمی پڑھائی جائے گی اور اس فیصلے پر تین سال کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، چینی زبان کی تعلیم پر اضافی مارکس، سکالرشپ اور چین میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ چینی زبان سکھانے کا مقصد یہاں چینی زبان اور ثقافت کو فروغ دینا ہے ، چین کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ معاشی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چینی زبان سکھانے کے لیے اساتذہ اور دیگر عملے کو خصوصی تربیت کی ضرورت ہے اور یہ تربیت ثقافتی پروگرام کے تبادلے کے تربیت فراہم کی جائے گی۔

کراچی میں چین کلچرل سینٹر قائم کیا جائے گا جو اس منصوبے کی نگرانی کرے گا، دونوں فریقین میں یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ یادداشت نامے میں کوئی بھی ترمیم مشاورت سے کی جائیگی۔

واضح رہے کہ چین تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے، ٹھٹہ میں ذوالفقار آباد نامی شہر کی تعمیر سمیت دیگر منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ کاشغر سے گوادر تک اکانامک کاریڈور کا راستہ بھی سندھ سے ہوکر گزرتا ہے۔

اسی بارے میں