ترقی پسندی کی علمبردار طاہرہ مظہر نہ رہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Rahat Ali Dar
Image caption طاہرہ مظہر متحدہ پنجاب کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات کی صاحبزادی اور نامور صحافی مظہر علی خان کی اہلیہ تھیں

پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک سرکردہ رہنما اور خواتین کےحقوق کی علمبردار طاہرہ مظہر علی خان کے انتقال نے ملک میں ترقی پسند سوچ کے حامل اور بائیں بازو کے کارکنوں کو سوگوار کردیا ہے۔

طاہرہ مظہرعلی خان لگ بھگ 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئیں۔ وہ طویل عرصہ سے علیل تھیں۔

طاہرہ مظہر کا شمار پاکستان کے ان چند خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے تحریک کی بنیاد رکھی اور اپنے نظریات کے لیے حقیقی جدوجہد کی۔

طاہرہ مظہر متحدہ پنجاب کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات کی صاحبزادی اور نامور صحافی مظہر علی خان کی اہلیہ تھیں۔

لاہور میں پیدا ہونے والی طاہرہ مظہر نے ابتدائی تعلیم کوئین میری سکول سے حاصل کی اور 16 برس کی عمر میں ان کی شادی مظہر علی خان سے ہوئی۔ شادی کے بعد انھوں نے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا جو ساٹھ برسوں زیادہ عرصے پر محیط ہے۔

طاہرہ مظہر علی خان پہلی خاتون ہیں جنہوں نے پاکستان میں خواتین کا عالمی دن عوامی سطح پر منایا اور خواتین کے حقوق کی بات کی۔ انھوں نے 1950 میں خواتین کی تنظیم ڈیموکریٹ ویمنز ایوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور اس کی قیادت کی۔

سنہ 1950 میں طاہرہ مظہر علی نے کیمونسٹ پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں وہ نیشنل عوامی پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور ورکرز پارٹی سے بھی منسلک رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طاہرہ مظہر علی خان نے پسماندگان میں دو بیٹے مصنف طارق علی اور صحافی ماہر علی سوگوار چھوڑے ہیں

جنرل ایوب اور جنرل ضیا کی آمریت کے خلاف بھی آواز اٹھائی اور بہادری کے ساتھ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آمریت کےدوران ان کی تنظیم ڈیموکریٹ ویمنز ایوسی ایشن پر پابندی لگادی گئی۔

ضیا کی آمریت کے دوران سنہ 1981 میں ویمنز ایکشن فورم کے نام خواتین کی نئی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ زندگی کے آخری حصہ میں وہ عوامی ورکز پارٹی سے وابستہ ہوگئیں تھیں۔

عوامی ورکز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فاروق طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ طاہرہ مظہر علی سنہ 2009 تک اپنی جدوجہد کے سلسلے میں سرگرم رہیں تاہم اس کے بعد ان کی سرگرمیاں صحت کی وجہ سے محدود سے محدود ہوتی گئیں۔

طاہرہ مظہر علی خان نے پسماندگان میں ایک بیٹی توصیف حیات اور دو بیٹے مصنف طارق علی اور صحافی ماہر علی سوگوار چھوڑے ہیں۔

اسی بارے میں