یمن تنازعہ: ممکنہ پاکستانی حمایت پر سیاسی جماعتوں کی ’تشویش‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID

پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے یمن میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں اس کا بھرپور ساتھ دے گا۔

اس سے قبل سعودی خبر رساں ایجنسی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب کو یمن کے حوثی قبائل کے خلاف مراکش، مصر اور سوڈان کی حمایت حاصل ہے۔

یمن میں پاکستان کی جانب سے سعودی حکومت کو فوجی امداد فراہم کرنے کے معاملے پر خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کا ردعمل سب سے پہلے سامنے آیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور ملک کی اندرونی فرقہ ورانہ دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے خلیجی ممالک یا مشرقِ وسطیٰ میں شیعہ سنّی تصادم کا حصہ بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ یمن میں ’پراکسی وار‘ کا آغاز ہو رہا ہے اور اس کے اثرث خلیجی ممالک خصوصاً بحرین میں ہی نہیں بلکہ خطے میں موجود پاکستان اور افغان پر بھی پڑیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی پاکستان کا پیچیدہ مسئلہ ہے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ اطلاعات آرہی ہیں کہ پاکستان کی حکومت سعودیہ کو شاید تعاون دے یا دے رہی ہے اورپی ٹی آئی کو مستقبل میں یمن کے معاملے پر امریکہ اور سعودی عرب کے اشتراک پر تشویش ہے۔

پی ٹی آئی نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے معاملے پر واضح موقف سے آگاہ کرے۔

اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر اس خبر کے بعد کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

دوسری جانب اے این پی کے سابق سینیٹر حاجی عدیل نے جو کہ سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں یمن پر پاکستان کی ممکنہ پالیسی کو پاکستان کے اندرونی معاملات کے لیے بھی خطرناک قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دوست ممالک ہیں ایک دوسرے کے موقف کو سپورٹ کرتے ہیں تاہم اگر پاکستان نے یمن میں سعودی عرب کو تعاون فراہم کیا تو اس سے پاکستان کے اندر بھی مسائل پھیلیں گے۔

’ہمارے ملک میں شیعہ بھی ہیں اور سنّی بھی ہیں اس سے یہاں زیادہ مسائل پیدا ہوں گے۔‘

انھوں نے گذشتہ سال پاکستان کو سعودی حکومت کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا قرض فراہم کیے جانے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی نے پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے اس خطیر رقم کو دوست ملک کی جانب سے تحفہ قرار دیا۔

اُدھر پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں بھی سعودی عرب کی اس خواہش پر خوش دکھائی نہیں دیتیں۔

جماعت کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ ان کی جماعت عالم اسلام کے اتحاد کی حامی ہے اور فوج کا بھیجنا معاملات اور مسائل کا حل نہیں ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے اور مسلمان ممالک کا کردار طاقت کے استعمال کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

’ہم نہیں چاہتے کہ معاملات اس طرح آگے بڑھیں کہ ملکوں کو دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنی پڑے۔ او آئی سی کو اور مسلم امّہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

فرید پراچہ نے ماضی کے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مغرب میں ایران عراق اور عراق کویت کے درمیان تصادم سے مسلم دنیا کو نقصان ہوا اور یہ مغرب کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا کام چلتا رہا ہے۔

اس سے قبل امریکہ میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نے کہا تھا کہ ان کی فوج نے یمن کے صدر منصور ہادی کی درخواست پر فوجی آپریشن شروع کیا ہے اور یہ آپریشن دارالحکومت صنعا پر قبصہ کرنے والے شیعہ حوثی قبائلیوں کے خلاف ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں