ویسے یہ ہو کیا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب اور غیر عرب ممالک نے آخری بار 1973 میں مشترکہ فوج کشی اسرائیل پر کی تھی

آسمان تلے شورش برپا ہے اور حالات بہترین ہیں:( ماؤزے تنگ )

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی قطعاً عجلت نہیں ، کیونکہ سعودی عرب روس نہیں اور یمن یوکرین نہیں۔

عرب لیگ کا صدر دفتر قاہرہ میں ہے اور قاہرہ پر خلیجی چیک بک کا سایہ۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کا صدر دفتر جدہ میں اور جدہ سعودی عرب میں اور سعودی عرب یمن میں۔

اگر تو یہ کوئی شیعہ سنی جھگڑا ہے تو پھر خلیج تعاون کونسل کا چھٹا سنی رکن (اومان) سعودی قیادت والے یمن بچاؤ اتحاد سے اب تک باہر کیوں؟

اگر یہ اتحاد یمن کی سنّی اکثریت کو ایران نواز زیدی شیعوں سے بچانا چاہتا ہے تو پھر یہی فارمولا بحرین کی اقلیتی سنی بادشاہت کے معاملے میں الٹا کیوں اور پھر شام کی سنّی اکثریت کو علوی اقلیتی آمریت سے بچانے کے لیے سیدھا کیوں۔ اور پھر یہ سنی بچاؤ اتحاد سنّی حماس اور سنّی اخوان المسلمین کی جان کے درپے کیوں ؟

اگر ترکی ، قطر ، مصر اور متحدہ عرب امارات جنگِ یمن میں سعودی اتحادی ہیں تو پھر یہ اتحادی لیبیا میں اپنے اپنے مسلح پٹھوں کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں ؟

اگر مشرقِ وسطی کے شیعہ و سنی اکثریتی ممالک القاعدہ اور داعش کو مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں تو پھر دونوں سے متحدہ طور پر نمٹنے کے بجائے ایک دوسرے کے کپڑے کیوں پھاڑ رہے ہیں؟

اور پھر امریکہ عراقی شیعہ حکومت و ملیشیا کی فوجی و تکنیکی مدد کیوں کررہا ہے مگر یمنی شیعوں کے خلاف سعودی اتحاد کو مواصلاتی مدد و سیارچی معلومات کس خوشی میں دے رہا ہے۔

Image caption یمن میں سعودی عرب اور اس کے 10 اتحادی ممالک شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں

اور اگر یمن سعودی جھگڑا خالصتاً عرب ہے تو پھر غیر عرب پاکستان کو کیوں کدوایا جارہا ہے۔

اور پھر پاکستان ہی کیوں؟

اسلامی سربراہ کانفرنس کے 40 سے زائد غیر عرب ممالک کیوں اس کارِ خیر میں شرکت سے محروم ہیں۔ تو کیا کچھ ایسے گستاخ سنّی اکثریتی ممالک بھی ہیں جو خادمِ حرمین و شریفین کی درخواست بھی ٹال دیں ؟

اور یہ کیسی شاندار صورت ِ حال ہے جو یمن ، عراق اور شام کے اچھے خاصے علاقے کو کنٹرول کرنے والی القاعدہ و داعش کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی کھلی منکر اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی یکساں باعثِ مسرت و اطمینان ہے۔

اور رہا پاکستان؟

’سب پے جس بار نے گرانی کی

اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا‘

قلعۂ عالمِ اسلام جملہ تقریبات و مہمانوں کے لیے بلا امتیاز مناسب کرائے پر دستیاب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اقوامِ متحدہ نے بھی یمن سے اپنے عملے کو نکال لیا ہے

پاکستان کو خدا نے اس قدر استحکام و توانائی بخش رکھی ہے کہ افغانستان ، کشمیر ، بلوچستان ، فاٹا اور اندرونی جہادی نیٹ ورک اس توانائی کے سامنے ہیچ ہیں لہذاٰ یمن کا آرڈر بھی پکڑ لینا کیا برا ہے۔

اہلاً و سہلاً مرحبا۔

ان دنوں بہت سے حلقے بشمول موم بتی مافیا (سول سوسائٹی) تعلیمی نصاب کو عصری حقائق سے ہم آہنگ کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

یہ بندہ بھی چاہتا ہے کہ بچوں کو پاکستانی معیشت کے باب میں بتایا جائے کہ ہماری بنیادی درآمدات میں پیٹرول ، جدید زرعی ، صنعتی ، مواصلاتی و دفاعی آلات ، قرضے ، امداد اور جہادی عناصر جبکہ کلیدی برآمدات میں گندم، کپاس، چاول، چینی، سوتی دھاگہ نیز عسکری و غیر عسکری افرادی قوت و وسائل شامل ہے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے عرب اور غیر عرب ممالک نے آخری بار 1973 میں مشترکہ فوج کشی اسرائیل پر کی تھی لیکن جب سے پتہ چلا کہ اسرائیل کوئی سنی یا شیعہ ملک نہیں کہ جس سے ڈرا یا ڈرایا جائے تب سے مشترکہ فوج کشی کا رخ اپنی جانب ہی ہوگیا ۔

کبھی ابرہہ یمن سے آتا تھا، اب ابرہہ یمن کو جاتا ہے۔

اسی بارے میں