قومی ایکشن پلان کے تحت 32 ہزار سے زائد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گرفتار ہونے والوں میں 727 انتہائی خطرناک اور مطلوب دہشت گرد بھی شامل ہیں

پاکستان میں دہشتگردی کو ختم کرنے کی غرض سے شروع کیے گئے قومی ایکشن پلان کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے اب تک 28 ہزار سے زیادہ کارروائیوں میں 32,347 افراد کو مختلف الزامات میں گرفتار کر چکے ہیں۔

وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں قومی ایکشن پلان کے تحت گزشتہ سال دسمبر سے اس سال ماچ کے ماہ تک کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں 14791 کارروائیاں، سندھ میں 5517، خیبرپختونخوا میں 6461، بلوچستان میں 84، اسلام آباد میں 405، آزاد جموں و کشمیر میں 1394، گلگت بلتستان میں 83 اور فاٹا میں 91 کارروائیاں کی گئی ہیں۔

اس رپورٹ میں گرفتاریو ں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر سے 32 ہزار 347 افراد گرفتار کیے ہیں، جن میں پنجاب سے 2798، سندھ سے 6467، خیبر پختونخواہ سے 18619، بلوچستان سے 3483، اسلام آباد سے 762، آزاد جموں و کشمیر سے نو، گلگت بلتستان سے 30 اور فاٹا سے 179 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران 37 دہشت گرد مارے بھی گئے ہیں اور گرفتار ہونے والوں میں 727 انتہائی خطرناک اور مطلوب دہشت گرد بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں اس عرصے میں پھانسی دیے جانے والے قیدیوں کے اعداد و شمار کا ذکر بھی ہے جس کے تحت کل 61 افراد کی پھانسی کی سزاپر عملدرآمد کیا گیا جن میں پنجاب سے 47، سندھ سے گیارہ، خیبر پختونخواہ سے ایک اور آزاد جموں و کشمیر سے دو قیدی شامل ہیں۔

وزیرِاعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کے نتیجے میں کی گئی کارروائیوں کا ذکر بھی ہے جس کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کرنے پر پولیس نے کل 3938 افراد کو حراست میں لیا جن میں پنجاب سے 3214، سندھ سے 176، خیبر پختونخواہ سے 451، بلوچستان سے تین اور اسلام آباد سے 94 افراد شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اشتعال اور نفرت انگیز تقاریر کرنے پر 887 مقدمات درج کیے گئے جن میں سب سے زیادہ پنجاب میں 707، سندھ میں 38، خیبر پختونخواہ میں 83، بلوچستان میں گیارہ، اسلام آباد میں ایک، آزاد جموں و کشمیر میں 46 اور گلگت بلتستان میں ایک مقدمہ شامل ہے۔ مقدمات کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان الزامات کے تحت 918 افراد کو گرفتار اور 70 دکانوں کو سر بمہر بھی کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 18 ہزار 855 افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا گیا ہے، جن میں سے 5996 کو خیبر پختونخواہ سے، بلوچستان سے 798، آزاد جموں و کشمیر سے 11216، اسلام آباد سے ایک، گلگت بلتستان سے دو اور فاٹا سے 842 افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا گیا اور اس سلسلے میں 354672 مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے غیر قانونی ذرائع سے رقوم کی بیرونِ ملک ترسیل پر 64 مقدمات درج کرکے 83 افراد کو گرفتار کیا ہے اور دس کروڑ سے زائد رقم بھی برآمد کی ہے۔ اس کے علاوہ دولت کی مشتبہ آمد و رفت اور منی لانڈرنگ کے 57 مقدمات درج کرکے 50 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں سٹیٹ بینک نے قومی ایکشن پلان کے تحت دس ارب مالیت کے 120 بینک اکاؤنٹ بھی منجمند کیے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی ہیلپ لائن 1717 پر موصول ہونے والی کالوں میں سے 351 پر کارووائی کی گئی جن میں سے 234 پنجاب میں، 31 سندھ میں، 39 خیبر پختونخواہ، 10 بلوچستان میں، دو آزاد جموں و کشمیر میں، 33 اسلام آباد میں اور ایک ایک گلگت بلتستان اور فاٹا میں موصول ہوئیں۔

ملک بھر میں خفیہ اطلاعا ت پر 2237 کارروائیاں بھی کی گئیں اور اس کے ساتھ موبائل فون کمپنیوں نے نادرا کے تعاون سے اب تک 60 لاکھ کے قریب سموں کی تصدیق بھی کی ہے۔

اسی بارے میں