’صنعا میں پھنسے 500 سے زیادہ پاکستانی حدیدہ روانہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یمن میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی پرواز اتوار کو روانہ ہوگی

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی بمباری کے بعد وہاں محصور پاکستانیوں کے انخلا کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے دارالحکومت سے چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر الحدیدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے یمن میں پاکستانی سفیر سے رابطہ کیا ہے اور انھیں ہدایت کی ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے ہر فرد کے بحفاظت انخلا کو یقینی بنایا جائے۔

سرکاری ٹی وی نے یمن میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر عرفان یوسف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت صنعا سے 40 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جدیدہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

اس قافلے میں سفارتی اہلکاروں سمیت 500 سے زیادہ پاکستانی شامل ہیں۔ پی ٹی وی کے مطابق پاکستانی سفیر نے یمن کے دیگر شہروں میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی حدیدہ پہنچنے کو کہا ہے۔

سرکاری ٹی وی نے ملک کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے ترجمان کے حوالے سے بھی بتایا ہے کہ یمن میں پھنسے ان پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی پرواز اتوار کو روانہ ہوگی۔

اس سے قبل وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ پی آئی اے کے دو طیارے یمن سے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تیار ہیں جنھیں یمن میں ایوی ایشن انتظامیہ اور پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد یمن بھجوایا جائے گا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں اور سفارتخانے کے عملے کے یمن سے فوری انخلا کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستانیوں کو یمن میں قدرے محفوظ شہروں میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے انھیں پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے واپس لایا جائے گا۔

وزارتِ خارجہ نے اس سلسلے میں ایک کرائسس مینجمنٹ سیل بھی قائم کیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ یمن میں موجود پاکستانیوں کو دو ماہ پہلے ہی یمن سے نکل جانے کو کہا گیا تھا۔ تاہم یمن میں پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار کا کہنا ہے کہ انھیں دفتر کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئ تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’گذشتہ روز ہمیں بتایا گیا کہ یمن سے نکلیں اس سے پہلے ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ سفارتخانے کی انتظامیہ یمن میں محصور 1500 سے زائد پاکستانیوں سے رابطہ کر رہی ہے۔‘

اہلکار نے بتایا کہ ’تمام خاندانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ زمینی راستے سے انھیں سعودی عرب منتقل کیا جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے یمن میں سعودی مداخلت کی حمایت کر دی ہے

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صنعا سے حدیدہ چھ گھنٹوں کی مسافت پر ہے اور صنعا ایئر پورٹ تباہ ہو چکا ہے اس لیے سفر زمینی راستے سے کیا جائے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ جمعے کی شب تین روز کے دوران سب سے زیادہ شدید بمباری ہوئی تاہم ابھی تک ان حملوں میں کسی پاکستانی شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں اور انتظامیہ کی ترجیح ہے کہ جلد ازجلد صنعا سے نکلا جائے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی نے دو روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سمیت پانچ ممالک یمن میں مداخلت پر اس کے ساتھ ہیں تاہم پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔

یمن میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے جمعے کو وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کی فوری انخلا کی ہدایات دی تھیں۔

اسی بارے میں