یمن میں پھنسے ہوئے503 پاکستانی وطن واپس

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سرکاری ٹی وی کے مطابق دیگر محصور پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کے لیے ایک اور خصوصی ایئر بس طیارہ بھی یمن بھجوایا جائے گا

پی آئی اے کا طیارہ یمن کے شہر حدیدہ سے 503 پاکستانیوں کو لے کر وطن واپس پہنچ گیا ہے جبکہ یمن میں موجود دیگر پاکستانیوں کو ایک جگہ اکھٹا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یمن میں سعودی عرب کی عسکری کارروائیوں کے بعد وہاں پھنس جانے والے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے اتوار کی صبح پی آئی اے کا طیارہ کراچی سے یمن کے شہر حدیدہ پہنچا تھا۔

اتوار کی رات کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے والے افراد کے عزیزوں اور رشتہ داروں نے ان کا استقبال کیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق 503 میں سے 339 مسافروں کو اسلام آباد بھجوایا گیا۔

مسافروں کو کراچی پاکستانی لڑکی نوشین جس کی یمن سے نکالنے کی اپیل ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی تھی نے وزیر اعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ یمن میں

یمن میں سعودی عرب کی عسکری کارروائیوں کے بعد وہاں پھنس جانے والے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے اتوار کی صبح پی آئی اے کا طیارہ کراچی سے یمن کے شہر حدیدہ پہنچا تھا۔

یمن میں موجود کل پاکستانیوں کی تعداد تین ہزار بتائی جا رہی ہے ۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق دفتر خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے بتایا ہے کہ یمن کے شہر عدن میں جاری لڑائی کی وجہ سے وہاں کا ایئرپورٹ بند ہے اور وہاں پھنسے 150 سے 200 پاکستانی سڑک کے ذیعے عدن سے المکلا شہر جائیں گے جہاں سے بذریعہ پرواز انھیں منگل کو وطن واپس لایا جائے گا۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان نیوی کا بحری جہاز بھی عدن کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے وہ چینی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی سفیر نے پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو بتایا تھا کہ ’یمن میں موجود 95 فیصد پاکستانیوں کا انخلا جلد مکمل ہو جائے گا۔‘

حدیدہ میں موجود پاکستانیوں کو لینے کے لیے پی آئی اے کا جمبو 747 طیارہ اتوار کی صبح روانہ ہوا تھا۔ طیارے کے یمن میں اترنے اور وہاں سے دوبارہ پرواز کی کلیئرنس میں تاخیر کی وجہ سے اس کی روانگی بھی تاخیر ہوئی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق دیگر محصور پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کے لیے ایک اور خصوصی ایئر بس طیارہ بھی یمن بھجوایا جائے گا۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ یمن کے مختلف علاقوں میں 3000 پاکستانی موجود تو ہیں جن میں سے ایک ہزار ہی ایسے ہیں جو یمن کے شورش زدہ علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بتایا کہ پاکستانی بحریہ کے دو بحری جہاز بھی بحیرۂ احمر پہنچ رہے ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی شہریوں کے یمن سے فوری اور محفوظ انخلا سے متعلق انتظامات اور معلومات کے لیے اسلام آباد میں قائم کرائسس مینیجمنٹ سیل کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 600 پاکستانی دارالحکومت صنعا سے بحفاظت حدیدہ پہنچ گئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ’صنعا سے حدیدہ کے زمینی سفر میں پاکستانی شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ جو تھوڑی بہت دشواری ہوئی وہ صرف سکیورٹی کلیئرنس کے دوران ہوئی۔‘

یمن میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر عرفان یوسف نے سنیچر کی شام بتایا تھا کہ دارالحکومت صنعا سے 40 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر حدیدہ کے لیے روانہ ہوا۔

پاکستانی سفیر نے یمن کے دیگر شہروں میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی حدیدہ پہنچنے کو کہا تھا۔

یمن میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم نواز شریف نے جمعے کو وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کی فوری انخلا کی ہدایات دی تھیں۔

اسی بارے میں