’پاکستانی فوجی مشقوں میں شریک ہیں جنگ میں نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں تاہم وہ کسی جنگی مہم کا حصہ نہیں ہیں۔

پیر کو سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں انھوں نے بتایا کہ ان مشقوں کا نام ’صمصام پنجم‘ ہے، اور ان میں 292 پاکستانی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ان فوجیوں کی سعودی عرب میں موجودگی جنگی مقاصد کے لیے نہیں ہے۔

فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ صمصام نامی ’یہ مشترکہ فوجی مشقیں ہر سال منعقد ہوا کرتی ہیں، اور گذشتہ سال یہ پاکستان میں جہلم کے قریب ہوئی تھیں۔‘

ان کا یہ بیان خبر رساں ادارے روئٹرز کی اس خبر کے بعد سامنے آیا جس میں نامعلوم سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی یمن میں جاری کارروائی میں مدد کے لیے فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

پاکستان کی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ سعودی سرزمین کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ہر ممکن مدد کرے گی لیکن فی الوقت وہاں فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ جمعے کو قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی بھی فوجی اقدام سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

ادھر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ یمن سے 500 پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کے بعد اب توجہ عدن اور مکلاہ میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو وہاں سے نکالنے پر مرکوز ہے۔

پیر کی شام دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عدن اور اس کے گردونواح میں جاری لڑائی کی وجہ سے وہاں پھنسے پاکستانیوں کی مکلاہ روانگی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

بیان کے مطابق پی آئی اے کا ایک جہاز مکلاہ جانے کے لیے تیار تھا تاہم اب ان افراد کو سمندری راستے سے نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اس سلسلے میں بحریہ کے دو جہاز پہلے ہی بحیرۂ احمر کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور چند دن میں یمن پہنچ جائیں گے اور ان کی مدد سے ہی عدن اور مکلاہ میں موجود پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔

پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے انخلا کے لیے چین کی مدد لینے کا معاملہ بھی زیرِ غور ہے۔

خیال رہے کہ چین کے بحری جہاز یمن میں موجود 600 چینیوں کو نکالنے کے لیے عدن پہنچ چکے ہیں۔