لیفٹیننٹ کرنل اور ایف سی اہلکار کو قتل کیا: ٹی ٹی پی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پشاور سمیت پورے خیبرپختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نےگذشتہ روز پشاور میں پاکستانی فوج کے ایک افسر لیفٹینٹ کرنل اور رات گئے مانسہرہ کے علاقے اُوگی میں ایک ایف سی اہکار کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم کی خصوصی فورس ایس ٹی ایف نے اپنے نئے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے گنجان آباد فیز تھری میں نا معلوم افراد نے فوج کے حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

لیفٹیننٹ کرنل طاہر عظیم راولپنڈی میں تعینات تھے اور پشاور بہن کے گھر آئے ہوئے تھے۔ اتوار کے روز ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ جونہی مسجد سے باہر آئے اسی وقت موٹر سائکل پر سوار حملہ آوروں نے ان پر شدید فائرنگ کی اور وہاں سے فرار ہو گئے۔ پولیس کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل طاہر عظیم کے بھائیوں کو بھی کچھ عرصہ پہلے ہلاک کیا گیا تھا۔

بعد ازاں مانسہرہ کے علاقے اُوگی میں رات کے وقت مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔

واقعے کے بعد مانسہرہ سے پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نا معلوم افراد ایف سی کے سپرنٹنڈنٹ عبدالرشید کے گھر داخل ہوئے اور فائرنگ کرکے انھیں ہلاک کردیا جس کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔

ادھر پیر کو پشاور میں پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دو فرار ہو گئے ہیں۔

پشاور میں پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تھانہ پہاڑی پورہ کی حدود میں پولیس انسپکٹر محمد رفیق دیگر نفری کے ہمراہ معمول کی گشت پر تھے کہ اس دوران نا معلوم افراد نے پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کی۔ اس حملے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے جبکہ جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا ہے۔

پولیس اہلکار حمایت خان نے بتایا کہ دو حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں جن کے خلاف پولیس کے چھاپے اور کارروائیاں جاری ہیں۔

چند روز پہلے نوشہرہ کی مدینہ کالونی میں نا معلوم افراد نے عالم دین مولانا امیر حمزہ کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا جب وہ عشاء نماز کی امامت کرنے کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔ مولانا امیر حمزہ تبلیغی جماعت سے وابستہ تھے۔

گزشتہ ہفتے پشاور میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک پولیس اہلکار کو بھی ہلاک کردیا تھا۔

خیال رہے کہ پشاور میں ناردرن بائی پاس پر پخہ غلام کے علاقے میں کچھ عرصے سے حکومت نے حفاظتی انتطامات سخت کیے ہیں۔

اسی بارے میں