یوحنا آباد بدامنی کیس، جج کا سماعت سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں کم سے کم 15 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبے پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوارالحق نے یوحنا آباد چرچ پر خودکش حملوں کے بعد توڑ پھوڑ اور دو افراد کو زندہ جلانے کے شبے میں زیر حراست مسیحی شہریوں کی رہائی کی درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی ہے۔

جسٹس انوارالحق نے رہائی کے لیے دائر کی گئی درخواست چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھجوادی اور سفارش کی ہے کہ اس درخواست کو سماعت کے لیے کسی دوسرے جج کے روبرو پیش کیا جائے۔

مسیحی رہنما جوزف فرانسس نے پولیس کی جانب سے مسیحی شہریوں کی گرفتاری اور غیر قانونی حراست کو چیلینج کیا تھا اور اس سلسلے میں ایک درخواست دائر کی ہے۔

لاہور کے مسیحی آبادی کے علاقے یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں کم سے کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں شامل جماعت الحرار نے یوحنا آباد کے علاقے میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحق نے کہا کہ وہ درخواست گزار جوزف فرانسس کے وکیل رہ چکے ہیں اور اس لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس درخواست پر سماعت کریں

اس سے پہلے اس درخواست کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمود مقبول باجوہ نے کی تھی لیکن ان کی عدم دستیابی کی وجہ سے درخواست جسٹس انوارالحق کے روبرو سماعت کے لیے پیش کی گئی

درخواست گزار کے وکیل طاہر بشیر کے مطابق کہ پولیس بغیر کسی ثبوت کے لوگوں کو پکڑ رہی ہے اور انھیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس کی حراست میں موجود ان افراد کی جان کو خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے سو کے قریب مسیحی شہریوں کو حراست میں لے چکی ہے

درخواست میں کہاگیا ہے کہ غیرقانونی حراست میں لیے گئے تمام افراد بازیاب کروا کر اُن کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں کے باہر خودکش حملوں کے بعد مشتعل ہجوم نے دو افراد کو تشدد کے بعد جلا دیا تھا اور توڑپھوڑ کر کے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔

پولیس اب تک مسیحی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ایک سو کے قریب مسیحی شہریوں کو حراست میں لے چکی ہے۔

ادھر پیر کو پولیس نے حراست میں لیے گئے 27 مسیحی شہریوں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

عدالت نے ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور پولیس کو ملزموں کی شاخت پریڈ کرنے کا حکم دیا۔

پنجاب حکومت نے اعلان کیا تھا کہ دو افراد کو زندہ جلانے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چلایا جائے گا۔

اسی بارے میں