شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کا آغاز

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے نتیجے میں وہاں سے نقل مکانی کرنے والے تقریبا دس لاکھ متاثرین کی واپسی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

متاثرین کی واپسی کے پہلے مرحلے میں منگل کو خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں بکاخیل پناہ گزین کمیپ سے 62 خاندانوں کا قافلہ اپنے علاقوں کی جانب روانہ ہوا

’ایسا کہیں نہیں کہ عوام اہلکاروں کا تخفط کریں‘

پناہ گزین کیمپ سے شامیری قبائل کے افراد فوج کی نگرانی میں سخت سکیورٹی میں اپنے اپنے گھروں کو پہنچے۔

پہلے مرحلے میں 13 اپریل تک شامیری کے بعد میر علی اور سپین وام قبائل کے افراد کی واپسی ہوگی۔

بنوں سے پہلے دن 62 سے خاندانوں کے 219 افراد اپنے آبائی علاقوں کو واپس گئے ہیں۔ واپس جانے والے ہر خاندان کو 35 ہزار روپے اور ایک ماہ کا راشن بھی دیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق دیگر علاقوں کے متاثرین کی واپسی کا اعلان وقتاً فوقتاً کیا جائے گا اور اس کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔

شمالی وزیرستان سے تقریباً دس لاکھ متاثرین نقل مکانی کر کے ملک کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

متاثرین کی شمالی وزیرستان واپسی سے قبل حکومت کی جانب سے ایک سماجی معاہدہ بھی سامنے آیا ہے جس کی شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنماؤں نے مخالفت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان کے متاثرین کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں کیمپوں میں مقیم ہے

یہ سماجی معاہدہ 2015 ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ نے گورنر خیبر پختونخوا کے نمائندے کے طور پر جاری کیا ہے۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ مقامی رسم و رواج اور قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے علاوہ آئین پاکستان کے بھی پابند ہوں گے۔

اس معاہدے میں جہاں حکومت کی جانب سے قبائل کو سیاسی و معاشرتی آزادی دینے اور ان کے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے وعدے کیے گئے ہیں وہیں ان پر سرکاری اہلکاروں اور اداروں کے تحفظ سمیت 17 ذمہ داریاں بھی ڈالی گئی ہیں۔

قبائلی رہنماؤں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر لشکر ترتیب دیں گے جو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔

ان ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے عہدہ برا نہ ہونے پر قبائل کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ افراد بے گھر ہو کر مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔

ان متاثرین کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں کیمپوں میں مقیم ہے۔ ان متاثرین کے لیے واپسی کے اعلانات پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکا تھا۔

اسی بارے میں