یمن کی جنگ پر بات چیت، پاکستانی وفد سعودی عرب میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومتِ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ ہونے کی صورت میں ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کر چکی ہے

پاکستان کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام پر مشتمل ایک وفد سعودی عرب پہنچ گیا، جہاں وہ یمن میں سعودی عرب کے عسکری آپریشن اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر سعودی حکام سے بات چیت کرے گا۔

دارلحکومت ریاض میں سعودی وزیر دفاع پرنس محمد سلمان نے پاکستان وفد کا استقبال کیا۔

اس وفد کی قیادت وزیرِ دفاع خواجہ آصف کر رہے ہیں جبکہ اس میں قومی سلامتی و خارجہ امور کے لیے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے علاوہ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض بھی شامل ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ یہ وفد دو دن سعودی عرب میں قیام کرے اور سعودی حکام سے یمن کی صورتحال اور سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق امور پر بات کرے گا۔

اس وفد کی تشکیل اور روانگی کا اعلان ابتدائی طور پر گذشتہ ہفتے کیا گیا تھا تاہم عرب لیگ کے اجلاس کے نتائج آنے تک اس کی روانگی دو مرتبہ موخر کی گئی۔

حکومتِ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ ہونے کی صورت میں ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کر چکی ہے تاہم ابھی تک وہاں فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ جمعے کو قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی بھی فوجی اقدام سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پیر کو نامعلوم سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پاکستان نے سعودی عرب کی یمن میں جاری کارروائی میں مدد کے لیے فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

تاہم اس پر فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں مشترکہ فوجی مشقوں میں تو حصہ لے رہے ہیں تاہم وہ کسی جنگی مہم کا حصہ نہیں ہیں۔

پیر کو سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں انھوں نے بتایا کہ ’صمصام پنجم‘ نامی مشقوں میں 292 پاکستانی فوجی شریک ہیں اور ان فوجیوں کی سعودی عرب میں موجودگی جنگی مقاصد کے لیے نہیں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں یمن میں پاکستانی فوج بھیجنے کی مخالف ہیں اور اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

ادھر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ یمن سے 500 پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کے بعد اب توجہ عدن اور مکلاہ میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو وہاں سے نکالنے پر مرکوز ہے۔

پیر کی شام دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عدن اور اس کے گردونواح میں جاری لڑائی کی وجہ سے وہاں پھنسے پاکستانیوں کی مکلاہ روانگی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

بیان کے مطابق پی آئی اے کا ایک جہاز مکلاہ جانے کے لیے تیار تھا تاہم اب ان افراد کو سمندری راستے سے نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اس سلسلے میں بحریہ کے دو جہاز پہلے ہی بحیرۂ احمر کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور چند دن میں یمن پہنچ جائیں گے اور ان کی مدد سے ہی عدن اور مکلاہ میں موجود پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔

پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے انخلا کے لیے چین کی مدد لینے کا معاملہ بھی زیرِ غور ہے۔ خیال رہے کہ چین کے بحری جہاز یمن میں موجود 600 چینیوں کو نکالنے کے لیے عدن پہنچ چکے ہیں۔

اسی بارے میں