ٹیکس خسارہ کم کرنے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں چار روپے اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رواں سال کے آغاز پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد زبردست قلت پیدا ہو گئی تھی جس سے شہریوں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین سے چار روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی ہے، جس کے بعد پیٹرول 74 روپے 29 پیسے میں فروخت ہو گا۔اس سے پہلے پیٹرول کی قیمت 70 روپے 29 پیسے فی لیٹر تھی۔

منگل کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کیا۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے مٹی کے تیل، ہائی اوکٹین، ڈیزل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری نہیں دی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 83 روپے 61 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو گا۔

نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اپریل سے ہو گا۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل، ہائی اوکٹین اور مٹی کا تیل کی قیمت پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے برقرار رکھی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مٹی کا تیل فی لیٹر 61 روپے 44 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل 57 روپے 94 پیسے اور ہائی اوکٹین (ایچ او بی سی) 80 روپے 31 پیسے میں فروخت ہو گا۔

بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔

پاکستان میں گذشتہ سال ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قتمتوں میں کمی ہوئی ہے اور پیٹرول 108 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 70 روپے فی لیٹر تک گر گیا۔

ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم ہونے کے بعد رواں سال جنوری میں پنجاب میں پیٹرول کی قلت ہو گئی تھی اور پیٹرول پمپوں پر طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں کمی کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

مقامی سطح پر قمیمتوں میں کمی سے پیڑولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس کی آمدن میں بھی کمی ہوئی تھی جس کے بعد حکومت نے پیڑولیم مصنوعات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد تک کر دیا تھا۔

ماہر اقتصادیات خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ مارچ میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مارچ میں بین الاقوامی مارکیت میں درحقیقت قیمتیں گری ہیں لیکن حکومت ٹیکسوں میں ہونے والے خسارہ کو قیمتیں بڑھا کر پورا کرنا چاہتی ہے۔‘

خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سیلز ٹیکس کی آمدن میں تقریباً 200 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور مالی سال کی آخری سہ ماہی میں حکومت کو آمدن بڑھانے کے لیے قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال جون سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں گرنا شروع ہوئی اور سال کے اختتام تک خام تیل کی قمیت میں تقریبا 30 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔لیکن مشرق وسطی میں غیر یقینی صورتحال اور خاص یمن میں کشیدگی کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاو ہوا ہے۔

اسی بارے میں