قحط زدہ تھر کے لیے امید کی نئی کرن

Image caption شاہ زیب جیلانی شمسی توانی سے چلنے والے آر او پلانٹ کے پانی کا مزا چکھتے ہوئے

مٹھی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہندوؤں کے ایک گاؤں مالٹھور خانجی میں لکشمی بھیل مٹی کا گھڑا اٹھا کر اپنے سر پر توازن کے ساتھ رکھتی ہیں۔

سبز چادر اور اسی سے ہم آہنگ چولی اور لمبا لہنگا پہنے وہ ننگے پاؤں ریت پر چلتی ہوئی پاس کے ایک کنویں پر جاتی ہیں۔

اس خطے میں دور دراز کے کنوؤں پانی لانا عورتوں کا ہی کام سمجھا جاتا ہے۔ لکشمی کے لیے بھی یہ روز صبح شام کا معمول ہے۔

جب وہ کنويں پر پہنچتی ہیں تو ایک لمبی رسی اور دو خچروں کی مدد سے دو سو سے تین سو میٹر نیچے زیرِ زمین پانی کھینچتی ہیں۔

یہ خاصا مشقت کا کام ہے اور اس کے بعد جو پانی وہ گھر لاتی ہیں وہ نہ صرف کھارا ہوتا ہے بلکہ فلورائیڈ سے آلودہ بھی۔

لیکن یہاں کے لوگ یہی پانی پینے پر مجبور ہیں ۔

Image caption گھڑوں میں پانی بھر کر لانا لکشمی کے علاوہ یہاں کی تقریبا تمام عورتوں کے معمول میں شامل ہے

تھرپارکر کا شمار پاکستان کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہاں تین سال سے ٹھیک سے بارشیں نہیں ہوئي ہیں۔ خشک سالی نے پہلے سے مصیبت زدہ لوگوں کی مشکلات اور بڑھا دی ہیں۔

لکشمی ایک لاغر بکری کو سہلاتی ہوئی کہتی ہیں: ’اب کھانے پینے کو کچھ بچا نہیں۔ بازاروں میں تو خوراک مل رہی ہے، لیکن ہمارے پاس خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔ مال مویشی مر رہے ہیں۔‘

لکشمی ایک پسماندہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے کبھی سکول کا منھ نہ دیکھا اور انھیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کی عمر کتنی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’شاید 40 یا 50۔‘ میں نے پوچھا آپ کے بچے ہیں؟ وہ کہتی ہیں ’ہاں تقریباً چھ‘ اور پھر وہ کہتی ہیں ’کل 11 ہوئے تھے باقی بیماریوں میں مر گئے۔‘تھر میں خشک سالی ہو یا نہ ہو، غربت یہاں عام ہے۔ پانی کے امراض اور غذائیت میں کمی یہاں اموات کی اہم وجوہات ہیں۔

حشک سالی کوئی بریکنگ نیوز نہیں۔ یہ یہاں کی زندگی کا حصہ ہے جہاں ہر چند سال بعد خاندانوں کے خاندان اپنے مال مویشوں سمیت ہریالی والے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

اس سے قبل میں سنہ 2000 میں تھرپارکر خشک سالی کی کوریج کے لیے آیا تھا۔ 15 سال بعد بعض معاملوں میں بہت حد تک تبدیلیاں آئی ہیں۔

تب مٹھی سے ننگرپار جانے میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے۔ ریتیلے راستوں پر سُست رفتار کیکڑے کا ایسا ہی ایک سفر مجھے آج بھی یاد ہے ۔ ٹرک پیچھے مال مویشوں اور دیہاتیوں بھرا ہوا تھا ،اوپر تاروں سے بھرا آسمان اور نیچے دور دور تک صحرا ہی صحرا ۔

لیکن آج یہاں باقاعدہ سڑکیں بن چکی ہیں جو تھر کے اکثر بڑے قصبوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔

اُس وقت ریڈیو خبر کا سب سے بڑا ذریعہ تھا لیکن اب تھر کے قصبوں میں موبائل فون سگنل نے اس خطے کے لوگوں کو نہ صرف ایک دوسرے سے بلکہ باقی دنیا سے جوڑ دیا ہے۔

یہ تبدیلیاں کسی انقلاب سے کم نہیں۔

تھر میں بجلی کے تار اور کھمبوں کا آج بھی فقدان ہے، لیکن سورج کی روشنی کے استعمال کو خاصا فروغ حاصل ہوا ہے۔

اب تھر کے علاقے میں سفر کرتے ہوئے آپ کو سڑک کے کنارے مقامی افراد چھوٹے چھوٹے سولر پینل کندھے پہ اٹھائے نظر آ جاتے ہیں جو کچھ پیسوں کے عوض آپ کا موبائیل فوں چارج کر دیتے ہیں۔

Image caption یہ علاقہ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں شامل ہے جہاں بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے

لیکن مواصلات کے میدان میں اس بہتری کے باوجود، یہاں صحت اور تعلیم کا آج بھی خستہ حال ہے۔

تھر میں بچوں کی اموات کی شرح ملک کے باقی حصوں سے زیادہ ہے۔

ڈاکٹر اور نرسیں دستیاب نہیں ہوتے ۔ تھر کے اپنے پڑھے لکھے اور قابل لوگ ، یہاں کی بجائے کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔

تھر میں بہت سے گاؤں ایسے ہیں جہاں سکول نہیں۔ سکول ہے تو استاد نہیں۔

یہ سب ایک خراب طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہے جو ہمیں سندھ میں ہر جگہ نظر آتا ہے۔ تھر جیسی جگہ پر یہ ناقص طرزِ حکمرانی زیادہ واضع دکھائی دیتی ہے۔

لیکن اپنی کارکردگی کے دفاع میں حکومتِ سندھ کہتی ہے کہ اس نے تھر کو صاف پانی مہیا کرنے کے لیے جو نئی سکیم متعارف کی ہے، وہ اس خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

تین کروڑ روپے سے زائد کی مالیت سے جاری اس منصوبے کے تحت زیرِ زمین پانی صاف کرنے کے لیے دیہاتوں میں سات سو پچاس فلٹر پلانٹ لگائے جا رہے ہیں ۔

اس پروجیکٹ کو چلانے والی کمپنی پاک اویسس کا کہنا ہے کہ اب تک تین سو کے لگ بھگ پلانٹ کام کر رہے ہیں اور باقی لگائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔ زیادہ تر پیمانوں پر تھر پاکستان کے 120 اضلاع میں سب سے نیچے آتا ہے

اس سکیم کے تحت زیرِ زمین پانی نکالنے کے لیے ڈنمارک کے واٹر پمپ لگائے جا رہے ہیں۔ پانی کو صاف کرنے کے لیے امریکی ممبرین ٹیکنالوجی استعمال میں لائی جا رہی ہے۔ فلٹریشن کے اس عمل کو ریورس اوسموسس (آر او) کہتے ہیں۔

یہ ان آر او پلانٹس چین سے درآمد شاہ سولی پینل یعنیٰ شمسی توانائی پر چلتے ہیں۔

سب سے بڑا آر او پلانٹ ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی کے قریب ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ اس میں روزانہ 20 لاکھ گیلن پانی صاف کرنے کی گنجائش ہے، جس سے مٹھی اور اسلام کوٹ کے تقریباً تین لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔

اس منصوبہ کا افتتاح اس سال جون میں ہونا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کو تھر میں اموات پر شدید عوامی تنقید کے بعد اس کا افتتاح چھہ مہینے پہلے ہی جنوری میں کردیا گیا۔

اس منصوبے پر کچھ ابتدائی تنقید بھی سامنے آئی کہ جو پلانٹ لگے اُن میں سے کچھ چلے نہیں لیکن کمپنی حکام اس تاثر کو رد کرتے ہیں ۔

Image caption علاقے میں موبائل فون اور سڑکیں تو آ گئی ہیں تاہم سکول کی کمی نظر آتی ہے

مٹھی میں آر او پلانٹ کمپنی کے ترجمان ارشاد حسین نے کہا کہ ’ہمارے پلانٹس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ہاں اگر روکاوٹیں آ رہی ہیں تو وہ مقامی سٹاف کی وجہ سے جن میں سے کچھ ان پلانٹس کو چلا نہیں پا رہے۔‘

حکام کہتے ہیں کہ آر او پلانٹ کس گاؤں میں کہاں لگانا ہے اور اس کی دیکھ بال کے لیے کس شحص کو رکھنا ہے، اس کا فیصلہ حکومتی لوگ سیاسی بنیادوں پر کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس میں بعض فیصلے تو ٹھیک نہیں ہوتے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی ہمیں ایسے لوگوں کو ملازمت دینی پڑ جاتی ہے جن میں نہ صلاحیت ہوتی ہے نہ قابلیت۔‘

تھر میں ریلیف کے کام پر نظر رکھنے کے لیے فیاض ربانی مٹھی میں جج تعینات جج ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ اچھے طریقے سے چلایا جائے تو یہاں کے لوگوں کا معیارِ زندگی بدل سکتا ہے۔

انھوں نے کہا’ذرا سوچئے! صاف پانی کی فراہمی سے انسانوں اور جانوروں کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس پانی کو کھیتی باڑی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور دیہات خوراک میں خود کفیل ہو سکتے ہیں۔‘

شرط صرف یہ ہے کہ حکام افتتاح کرنے کے بعد اس منصوبے کو بدانتظامی کی نظر نہ کر دیں بلکہ اس سے صحرائے تھر کے لوگوں کی جو امید بندھی ہے، اُسے ذمہ داری سے پورا کر کے دکھائیں ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس پروجیکٹ کو علاقے کے لیے ہریالی اور امید کی کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

اسی بارے میں