چینی تعاون سے عدن میں محصور پاکستانیوں کے انخلا کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 70 سے 90 پاکستانی اب بھی صنعا میں موجود ہیں : ترجمان دفترِخارجہ

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یمن میں اب بھی 400 پاکستانی محصور ہیں جن میں سے 200 کو چین کے بحری جہاز کے ذریعے عدن سے نکالا جائے گا۔

یاد رہے کہ یمن میں سعودی عرب کے عسکری آپریشن اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر سعودی حکام سے بات چیت کے لیے پاکستان کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام پر مشتمل ایک وفد سعودی عرب میں موجود ہے۔

منگل کی رات دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کی جانب سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یمن کے دارلحکومت صنعا، مکالا اور عدن میں اب بھی 400 پاکستانی انخلا کے منتظر ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ عدن میں پھنسے ہوئے تقریباً 200 پاکستانیوں کو چین کے بحری جہاز کی مدد سے نکال کر جیبوٹی پہنچایا جائے گا جہاں سے پی آئی اے کا طیارہ انھیں وطن واپس پہنچائے گا۔ اس سلسلے میں ایتھوپیا میں موجود پاکستانی سفیر سے کہا گیا ہے کہ وہ جیبوٹی میں کیمپ آفس قائم کریں۔

خیال رہے کہ چین کے 600 شہری بھی یمن میں محصور ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق جمعرات کو موکالا میں پاکستان کا بحری جہاز پہنچے گا اور وہاں موجود 150 پاکستانیوں کو کراچی لائے گا۔

بیان کے مطابق اب بھی یمن کے دارالحکومت صنعا میں 70 سے 90 کے قریب پاکستانی محصور ہیں مگر وہ صنعا سے دیگر شہروں میں جانے پر رضامند نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن میں جاری سعودی عرب کی فضائی بمباری کا ایک منظر

حکام کا کہنا ہے کہ صنعا کی خطرناک صورتحال کے باوجود خصوصی پرواز کے ذریعے ان پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

تسنیم اسلم کے مطابق سعودی حکام سے درخواست کی جارہی ہے کہ پاکستانی طیارے کو نو فلائی زون سے مثتثنیٰ قرار دیں جبکہ یمنی حکام سے بھی’ گراؤنڈ کلیئرنس‘ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں ریاض پہنچنے والے وفد میں قومی سلامتی و خارجہ امور کے لیے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے علاوہ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض بھی شامل ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ یہ وفد دو دن سعودی عرب میں قیام کرے اور سعودی حکام سے یمن کی صورتحال اور سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق امور پر بات کرے گا۔

اس وفد کی تشکیل اور روانگی کا اعلان ابتدائی طور پر گذشتہ ہفتے کیا گیا تھا تاہم عرب لیگ کے اجلاس کے نتائج آنے تک اس کی روانگی دو مرتبہ موخر کی گئی۔

حکومتِ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ ہونے کی صورت میں ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کر چکی ہے تاہم ابھی تک وہاں فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ جمعے کو قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔

.

اسی بارے میں