عدالتی کمیشن کی تشکیل پر معاہدہ طے پا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر اسلام آباد میں دھرنا دیا جو کئی ماہ جاری رہا

مہینوں کی کشمکش، بیان بازی اور طویل مذاکرات کے بعد حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان عدالتی کمیشن کی تشکیل کے بارے میں اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، جب کہ تحریکِ انصاف کی طرف سے جہانگیر ترین نے منگل کی شب اس سلسلے میں معاہدے پر دستخط کیے۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ اس معاہدے کے گواہ بنے۔

معاہدے کے بعد وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے منگل کو رات گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشن 2013 کے انتخابات کے غیر جانبدارانہ ہونے کی تحقیقات کرے گا۔

پاکستان کی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق انھوں نے کہا کہ حکومت کوشش کرے گی کہ اس سلسلے میں جلد ہی آرڈیننس جاری ہو جائے، جس کے اجرا کے بعد حکومت کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی۔

تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ معاہدہ تاریخی نوعیت کا ہے، جس سے لوگوں میں آئندہ انتخابات کے بارے میں اعتماد میں اضافہ ہو گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس تحریکِ انصاف نے گذشتہ سال اگست میں اسلام آباد میں دھرنا شروع کیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت 2013 کے انتخابات کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کروائے۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم انھوں نے اس کے بعد کئی بار متنبہ کیا تھا کہ اگر جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو وہ دوبارہ احتجاج شروع کر دیں گے۔

اسی بارے میں