نوشکی سے چار لاشیں برآمد، ایک کی شناخت ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نوشکی میں چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوئی ہیں جن میں سے ایک کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر نوشکی بادل خان دشتی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نوشکی انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ دونوں اضلاع کے سرحدی علاقے گوربرآت کے علاقے میں لاشیں پڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب لیویز فورس کے اہلکار اس علاقے میں پہنچے تو انہیں پہاڑی علاقے میں ایک قبرستان کے قریب چار افراد کی لاشیں ملیں۔

انہوں نے بتایا کہ لیویز فورس کے اہلکاروں نے چاروں افراد کی لاشوں کو سول ہسپتال نوشکی پہنچایا۔

اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ہلاک شدگان کی عمر 20 سے 25 سال کے درمیان ہے اور ان سب کو سر اور سینے پر گولیاں ماری گئی ہیں۔

ان افراد کو ہلاک کرنے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے اور نہ ہی تاحال کسی نے ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حکومتی اہلکار نے بتایا کہ لاشیں چار سے پانچ روز پرانی ہیں اور ان میں سے ایک کی شناخت ہوئی ہے اور وہ لاش نوشکی سے تعلق رکھنے والے محمد عامر جمالدینی کی ہے۔

عامر جمالدینی کو پانچ ماہ قبل نوشکی سے مبینہ طو پر جبراً لاپتہ کیا گیا تھا۔

بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور صوبائی حکومت نے رواں برس کے آغاز میں بتایا تھا کہ 2014 کے دوران صوبے سے 164 ایسی لاشیں ملی ہیں۔

تاہم پاکستان میں لاپتہ بلوچ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ برس کے دوران کل 435 بلوچ لاپتہ ہوئے جبکہ 455 افراد کی تشددزدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا تاہم ایسے واقعات کے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ 2010 سے سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔

اسی بارے میں