پنجاب حکومت کا لکھوی کی نظربندی ختم کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہورہائی کورٹ نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ وہ ذکی الرحمان لکھوی کی درخواست پر پانچ دنوں میں فیصلہ کریں

پنجاب کے سیکرٹری داخلہ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے الزام میں ملوث ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی کے احکامات واپس لینے سے انکار کردیا ہے۔

ذکی الرحمان لکھوی نے اپنی نظربندی کے خلاف سیکرٹری داخلہ پنجاب سے رجوع کیا تھا تاہم سیکرٹری داخلہ نے ان کی درخواست مسترد کردی ۔

ذکی الرحمان لکھوی نے لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر اپنی نظر بندی کے خلاف سیکرٹری داخلہ کو درخواست دی تھی اور لاہورہائی کورٹ کے جسٹس محمود مقبول باجوہ نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ وہ ذکی الرحمان لکھوی کی درخواست پر پانچ دنوں میں فیصلہ کریں گے۔

سیکرٹری داخلہ کے فیصلے کے خلاف ذکی الرحمان لکھوی نے دوبارہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے اور نظربندی کوکالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکی لکھوی کی نظربندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم گزشتہ ماہ چودہ مارچ کو پنجاب حکومت نے ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی کے نئے احکامات جاری کیے تھے جس سے لکھوی کی رہائی ممکن نہ ہوسکی۔

ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ سیکرٹری داخلہ نے ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی کے احکامات کو برقرار رکھا اور اس ضمن میں زبانی طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ وکیل کے مطابق نظربندی کے خلاف درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے۔

ذکی الرحمان لکھوی نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جانے والی میں یہ قانونی نکتہ اٹھایا گیا کہ تین مرتبہ نظربندی میں توسیع ہونے کے بعد معاملہ ریویو بورڈ میں پیش کیے گئے بغیر نظربندی کی مدت میں توسیع یا نئے سرے سے نظربندی کے احکامات جاری نہیں کیے جاسکتے۔ درخواست میں کہا گیا کہ ریویو بورڈ کے سامنے پیش کیے بغیر نظربندی کے احکامات جاری کرنا غیر آئینی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

ذکی الرحمان لکھوی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود نظربندی کے نئے احکامات جاری پر سیکرٹری داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی نوٹس جاری کرچکا ہے۔

اسی بارے میں