معاہدہ یا قبائلیوں کو گھیرنے کی کوشش؟

Image caption وزیرستان میں بدامنی کی وجہ سے لاکھوں قبائلیوں کو گھربار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جب طالبان کو کنٹرول حاصل تھا تو ان دنوں مقامی لوگ شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ تاہم جب آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا تو تب بھی سب سے زیادہ نقصانات عوام کو برداشت کرنا پڑے اور اب جب متاثرین کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے تو ایسے میں ایک مرتبہ پھرسے ایسا لگ رہا ہے کہ وزیرستانیوں کی زندگی مشکل بنائی جا رہی ہے۔

حکومت نے شمالی وزیرستان واپس جانے والے قبائل کے سامنے ایک معاہدے کی شکل میں کچھ شرائط رکھی ہیں جس میں انھیں پابند کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی دھرتی، حکومت اور سکیورٹی فورسز کے تحفظ کے ذمہ دار ہوں گے۔

’ سماجی معاہدہ‘ کے نام سے موسوم یہ معاہدہ پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جس میں فریق اول گورنر خیبر پختونخو ااور وفاقی حکومت اوررفریق دوم شمالی وزیرستان کے قبائل کو بنایا گیا ہے۔ 17 نکات پر مشتمل اس معاہدے میں چند ایسے شرائط رکھی گئی ہیں جس پر شمالی وزیرستان کے قبائلی جرگہ کی جانب سے شدید تحفظات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

معاہدے کے مطابق قبائل کو کہا گیا ہے کہ وہ آئین پاکستان، فرنٹیر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) اور مقامی رسم رواج پر ہر طرح سے عمل درامد کے پابند ہوں گے۔ قبائل شدت پسندوں کے خلاف ایجنسی اور قبیلہ کی سطح پر سلولیشتی یا لشکر بنائیں گے اور وہ بھاری اسلحہ بھی نہیں رکھ سکیں گے۔

معاہدے کے رو سے اگر قبائل کسی کارروائی کی صورت میں ناکام ہوجاتے ہیں تو حکومت ان کے نقصان کے ذمہ دار نہیں ہوگی اور انھیں اس ضمن میں کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جائے گا۔

معاہدے کی جس شق پر سب سے زیادہ تنقید کی جارہی ہے وہ علاقے کی سکیورٹی سے متعلق ہے جس کے تحت تمام قبائل پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اور علاقے کے علاوہ ایجنسی میں تعینات سکیورٹی فورسز اور پولیٹکل انتظامیہ کے تحفظ کے ذمہ دار ہوں گے۔

شمالی وزیرستان کے چار بڑے اقوام اتمانزئی وزیر، داوڑ، سیدگئی اور خرسین قبائل پر مشتمل گرینڈ جرگہ اس معاہدے کے شرائظ ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ جرگوں کا سلسلہ جاری ہے۔

زیادہ تر قبائلی مشران کہتے ہیں کہ سماجی معاہدے کی شرائط سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے وزیرستان میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار قبائل ہیں یا یہ ان کی وجہ سے یہ سب کیا دھرا ہے۔

داوڑ قبیلے کے ایک سرکردہ قبائلی رہنما ملک نثار علی ِخان کا کہنا ہے کہ قبائل اس وقت تک حکومت اور سکیورٹی فورسز کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں لے سکتے جب تک وہاں فوج تعینات ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’فوج کی موجودگی میں قبائلی عوام کیسے حکومت اور سکیورٹی فورسز کا تحفظ کرے گی، آپریشن تو فوج نے کیا ہے قبائلی عوام نے تو نہیں کیا۔‘

ان کے مطابق یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر کسی کارروائی میں قبائل ناکام ہوتے ہیں تو ان کو جو جانی و مالی ہوا ہوگا اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں ہو گی اور اس حوالے سے قبائل کو نقصان کا کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سماجی معاہدے کی شرائط سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے وزیرستان میں جو کچھ ہوا وہ سب قبائل کا کیا دھرا ہے: قبائلی مشران

’ہمیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف لشکر بنائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی حفاظت کے لیے بھاری اسلحہ بھی نہیں رکھ سکیں گے یعنی اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم مخالفین سے سے خالی ہاتھ لڑیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جن لوگوں سے فوج کو لڑنا مشکل ہورہا ہے ان سے عام قبائل کیسے لڑیں گے؟‘

ان کے بقول ’معاہدے کی شرائط قبائل کو خوامخواہ گھیرنے کے مترادف ہیں۔‘

ملک نثارعلی خان داوڑ کے مطابق معاہدے کے شقوں سے حکومت ایسا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیسا آپریشن ضرب عضب ناکام ہو گیا ہے۔

وزیرستان کے اکثر لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ سارا بوجھ قبائل کے کندھوں پر تو ڈالا جا رہا ہے لیکن اس کی ضمانت کون دے گا کہ وزیرستان پھر سے عالمی جہادیوں کا مرکز نہیں بنے گا؟

انھوں نے کہا کہ وزیرستان میں پہلے سرگرم شدت پسندوں کو وزیرستان کے لوگوں نے دعوت نہیں دی تھی کہ وہ آ کر ان کے گھروں میں پناہ لیں بلکہ انھیں کسی اور کا تعاون حاصل تھا جس کی وجہ سے وہ وہاں قابض ہوگئے تھے۔

ان کے مطابق حالیہ آپریشن وزیرستان کی صرف چار تحصیلوں میں ہوا ہے جبکہ باقی ماندہ سات تحصیلوں میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ زیادہ تر دہشت گرد یگر علاقوں کی جانب فرار ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ فوج کو دیگر تحصیلوں میں بھی حتمی کارروائی کرنی چاہیے تاکہ سارا وزیرستان عسکری تنظیموں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک ہو جائے۔

اسی بارے میں