لاہور: گلابی رکشوں کے بعد رنگیلے رکشے

Image caption لوگ رکشے کو کرائے پر بھی مانگ رہے ہیں

لاہور میں خواتین کے لیے مخصوص گلابی رکشے کے بعد اب رنگیلے رکشے متعارف کروائے گئے ہیں۔سرخ سبز نیلے پیلے سب ہی رنگوں سے مزین یہ رکشے کئی حوالوں سے منفرد ہیں۔ ٹرک آرٹ سے بنی تصویریں اور خوبصورت مور تانبے اور سلور کی جھالریں اور دو تین نہیں بلکہ چھ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ان رکشے کو دیکھتے ہی دل کرتا ہے کہ اس پر سواری کی جائے۔

رنگیلا رکشہ سروس کا باقاعدہ آغاز آج سے ہورہا ہے۔ گذشتہ چند روز سے ان کی ’ٹسیٹ رائیڈ‘ جاری تھی جس پر عوام کا ذوق و شوق قابل دید رہا۔

رکشہ ڈرائیور مختار احمد نے بتایا ’یہ وی آئی پی رکشہ ہے۔ اور ٹورازم کے لیے ہے۔ لیکن ہر کوئی اس میں بٹیھنا چاہتا ہے۔ سواریاں کہتی ہیں کہ منہ مانگے دام لو اور ہمیں بٹھا لو۔ کیونکہ یہ اتنا خوبصوت جو ہے ۔اس رکشے کے پاس پراڈو گاڑی کھڑی ہو تو لوگ اسے نہیں دیکھتے بس رنگیلے رکشے کو دیکھتے جاتے ہیں۔‘

Image caption شاہی گیٹ سمیت لاہور کے تاریخی علاقے رنگیلے رکشے کی گذرگاہ میں شامل ہیں

لاہور شہر خاص طور پر دلی دروازے کی شاہی گزر گاہ شاہی قلعہ اور مسجد کے ارد گرد کے علاقوں کو گذشتہ چند برسوں میں کروڑوں روپے لگا کر بحال کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ لاہور کی تاریخی روایت اور ثقافت کا گڑھ سمجھا جاتاہے۔ اور سیاحوں کے لیے خاص کشِش رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علاقے کی تزئین و آرائش اور بحالی کے بعد سیر کا مزہ دوبالا کرنے کے لیے یہاں خوبصورت رکشوں کی سواری اور تربیت یافتہ رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ گائیڈڈ ٹور کی سہولت بھی فراہم کردی گئی ہے۔

Image caption رکشہ ڈرائیورز نے ٹور گائیڈز کی خدمات بھی حاصل کی ہیں

رکشہ ڈرائیور مشتاق علی نے بھی ٹور گائیڈ کی تربیت لی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ان رکشوں نے ہماری علیحدہ پہچان بنا دی ہے۔ اس سروس کا مقصدتو ان لوگوں کو شہر کا یہ حصہ دکھانا ہے جو لاہور کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔ ہم انھیں رکشے پر بٹھا کر لائیں گے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے دوران انھیں مختلف روٹس کی سیر کروائیں گے۔ اور روٹ پر واقع تاریخی عمارتوں سے متعارف بھی کروائیں گے۔

رکشے صرف سیر کرنے کے لیے ہی استعمال نہیں ہو رہے۔ علی احمد کا خاندان مغلیہ دور کی شاہکار مسجد وزیرخان میں ان کے نکاح کی تقریب کے لیے اندرون شہر آیا۔ دلہن اور دولہے کے خاندان نے یہاں پہنچتے ہیں اپنی لمبی لمبی گاڑیوں کو خیرباد کہا اور دلی دروازے سے بڑے شاہانہ انداز سے رنگیلے رکشوں پر سوار ہوکر مسجد کا رخ کیا۔

Image caption گاڑی کے علاوہ بگھی کو روایت کے طور پر شادی بیاہ میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن رکشے کا استعمال پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے

علی کہتے ہیں ’میں پہلے بھی کئی بار وزیرخان مسجد آچکا ہوں لیکن اس طرح نہیں۔ رکشے میں بیٹھ کر سواری کا جو لطف آیا ہے اور شادی کے مہمانوں نے جس طرح اسے سراہا ہے میں بہت خوش ہوں۔‘

جب سے رکشے شہر میں دکھائی دے رہے ہیں انھیں شادی بیاہ میں استعمال کے لیے کرائے پر مانگا جارہا ہے۔ تاہم رنگیلا رکشہ سروس شروع کرنے والی والڈ سٹی اتھارٹی لاہور کی دپٹی ڈائریکٹر عائشہ خان کہتی ہیں کہ رنگیلا رکشہ سروس شروع کرنے کا یہ مقصدہرگز نہیں۔

’ہم اسے کرائے پر نہیں دیں گے۔ ہم تو صرف اندرون شہر کے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور ہماری یہ خواہش ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان لاہور کے اس حصے میں آئیں گھومیں پھریں اور مزہ اٹھائیں۔ غیرملکی سیاحوں کے لیے چونکہ رکشہ ہمیشہ ہی دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ ہمیں لگا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے یہ ایک کارآمد آئیڈیا ہوسکتا ہے۔‘

رکشوں کی ڈیزائینگ والڈ سٹی اتھارٹی کے ڈیزائنرز نے کی ہے۔ جس میں ٹرک آرٹ اور اندرون لاہور کی ثقافت اور مزاج کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس رکشے کی چھت نہیں بنائی گئی تاکہ سیاح اردگرد کے بازاروں اور عمارتوں کا اچھی طرح نظارہ کرسکیں۔

رنگیلے رکشوں کا باقاعدہ افتتاح آج کیا جارہا ہے۔ ابتدائی طور پر انھیں شاہی گزر گاہ شاہی قلعے اور فورٹ روڈ کی فوڈ سٹریٹ پر چلایا جارہا ہے۔ یہ سروس صرف غیرملکی سیاحوں کے لیے نہیں ہے۔سب ہی اس کا مزہ لے سکتے ہیں۔ لیکن دو سو پچاس روپے فی کس ادا کرنے کے بعد۔

اسی بارے میں