عارضی قانون اعلیٰ یا مستقل قوانین؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدارتی آرڈیننس کے تحت سنہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا تعین کرنے کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔جو سپریم کورٹ کےتین ججوں پر مشتمل ہوگا

پاکستان میں 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی کھوج لگانے کے لیے انکوائری کمیشن کےقیام کے لیے آرڈیننس جاری کیا گیا ہے لیکن اس آرڈیننس نے جہاں کئی قانونی سوالات کو جنم دیا ہے وہیں آئینی پیچدگیاں پیدا ہونے بھی کا خدشہ ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے حکمران جماعت مسلم لیگ نواز اور حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے درمیان معاہدے کےبعد آرڈیننس جاری کیا ہے۔

صدارتی آرڈیننس کے تحت سنہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا تعین کرنے کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے گا جو سپریم کورٹ کےتین ججوں پر مشتمل ہوگا۔

یہ آرڈیننس اس اعتبار سے حیران کن ہے کہ ملک میں اہم واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل اور دھاندلی کی چھان بین کے لیے پہلے سے قوانین موجود ہیں، پھر آرڈیننس کا اجراء کیوں؟

کسی اہم واقعہ کی چھان بین کے لیے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1956 کا قانون موجود ہے اور انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت الیکشن ٹربیونل کام کرتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت انتخابات کے بعدکسی رکن کی اہلیت ، انتخابی تنازعے یا پھر دھاندلی کے معاملہ پر کام کا اختیار صرف الیکشن ٹربیونل کو ہے اور ان معاملات کو کسی دوسرے فورم چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

آئینی قدغن کے بعد کیا کمیشن کے ذریعے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات ہوسکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قانون کے تحت ٹربیونل کے فیصلے کی عدالتی فیصلے والی حیثیت ہوتی ہے اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکتی ہے

ان دونوں قوانین کی موجودگی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی عارضی قانون سازی یعنی آرڈیننس کے تحت کسی مستقل قانون یا آئین کے آرٹیکل کو غیر موثر کیا جاسکتا ہے۔

اگر اس موقف کو تسلیم کرلیا جائے کہ ٹربیونل اپنی جگہ انتخابی عذرداریوں پر سماعت کریں گے اور کمیشن اپنی جگہ کارروائی کرئے گا تو پھراس قانونی اعتراض کا جواز تلاش کرنا ہوگا کہ قانون کے تحت ایک ہی معاملے پر دو مختلف فورم پر کارروائی کیسے کی جاسکتی ہے؟

جوڈیشل کمیشن نے تشکیل کے بعد اپنی کارروائی شروع کرنی ہے جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے خلاف تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کی انتخابی عذرداریوں پر کارروائی آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔

اس قانونی گتھی کو بھی سلجھانے کی ضرورت ہے کہ جوڈیشل کمیشن اور ٹربیونل کے فیصلوں میں تضاد ہونے کی صورت میں کس کا فیصلہ مانا جائےگا؟

قانون کے تحت ٹربیونل کے فیصلے کی عدالتی فیصلے والی حیثیت ہوتی ہے اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکتی ہے جبکہ کمیشن کی سفارشات کو عدالتی فیصلے کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی مرتب کردہ سفارشات کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

انتخابی عذرداریوں کی قانونی پیروی کرنےوالے وکلا کا کہنا ہے کہ الیکشن ٹربیونل الزامات کی چھان بین کے ساتھ ٹرائل بھی کرتا ہے جبکہ کمیشن صرف تحقیقات تک محدود ہوتا ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق کمیشن کی سفارشات کی بنا پر اسی وقت کارروائی ہوسکتی ہے جب انہیں بطور شہادت کسی عدالت میں پیش کیا جائے اور کمیشن کی سفارشات پر براہ راست کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

ایسی صورت حال میں کمیشن کی جانب سے دھاندلی ثابت ہونے پر اسمبلیوں کی تحلیل خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

اسی بارے میں