’دولتِ اسلامیہ‘ کا حملہ کیا خطرے کی گھنٹی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے گذشتہ برس قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تمام شدت پسند تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کیا

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں مقامی حکام کے مطابق اتوار کے روز ایک حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

اس حملے کے بارے میں غیرمعمولی بات گذشتہ دنوں قائم کی جانے والی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ یا داعش کا اس کی ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ تو کیا اس کا متحرک ہونا پاکستان کے لیے کتنے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے؟

اس سال جنوری کے اوائل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے والے چند شدت پسندوں کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے لیے داعش کے قیام کا اعلان ایک ویڈیو جاری کر کے کیا گیا تھا۔ لیکن اِس کے بعد سے یہ نئی تنظیم خاموش رہی۔ ماہرین کے خیال میں وہ انتظامی معاملات سے جن میں وسائل کا حصول بھی شامل ہے اب تک نمٹ رہی تھی۔

شدت پسندی کے امور کے ماہر خادم حسین کی بھی یہی رائے ہے: ’اس تاخیر کی وجہ اس تنظیم کی ساخت اور اسے نیٹ ورک کے پھیلنے میں جو وقت لگتا ہے یہ وہ تاخیر ہے۔‘

ان انتظامی امور میں سب سے اہم متوقع مالی امدد کا عراق یا شام سے آنا تھی جس میں ماہرین کے بقول تاخیر ہو رہی ہے۔ افغان صحافی سمی یوسفزئی کہتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کی ترجیع اس وقت پاکستان اور افغانستان نہیں ہے۔’ان کو شاید امید تھی کہ دولت اسلامیہ کے ہیڈکواٹر سے کوئی مدد ملے گی لیکن داعش عراق اور شام میں کافی مصروف ہے اور تمام وسائل اسی پر خرچ کر رہے ہیں۔ فی الحال اس کی اس خطے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘

بعض لوگوں کے خیال میں اورکزئی میں حملہ شاید ایک آدھ ہی ہو لیکن اس سے آنکھیں موڑی نہیں جا سکتیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر حاجی محمد عدیل کہتے ہیں کہ حکومت کا ماننا ہے کہ اس تنظیم کا افغانستان کے بعض علاقوں میں کچھ اثر و رسوخ ہے۔ ’خطرے کی بات تو یہی ہے کہ کہیں وہاں کا اثر یہاں تو نہیں آنا شروع ہو جائے گا۔ یہ تنظیم خطرہ بن سکتی ہے۔‘

افغانستان میں اس نئی تنظیم کو قیام کے فوراً بعد شدید نقصان اس کے ہلمند میں موجود نائب رہنما ملا عبدالروف کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی صورت میں ہوا۔

طاہر خان کہتے ہیں کہ افغانستان کے بعض علاقوں میں ان کی جانب سے سیاہ پرچم آویزاں کرنے کی خبریں ملی ہیں لیکن کوئی بڑا حملہ ابھی وہاں بھی نہیں کیا گیا ہے۔ ’افغانستان میں عام تاثر یہ ہے کہ ہزارہ قوم کے بعض افراد کے اغوا کے پیچھے اس تنظیم کا ہاتھ ہو لیکن اس کی انھوں نے ابھی تک ذمہ داری قبول نہیں کی۔‘

طاہر خان کے خیال میں افغان طالبان رہنما ملا محمد عمر کی سوانح عمری کے جاری کرنے کا مقصد بھی تحریک کے اندر بڑھتی ہوئی ناامیدی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اپنے جنگجوں کو دولت اسلامیہ میں جانے سے روکنا ہو سکتا ہے۔

’ملا محمد عمر کو 2002 کے بعد سے کسی نے نہیں دیکھا۔ اس سے تحریک کے اندر گومگو کی کیفیت ہے اور بہت سے لوگوں نے، جن میں ازبکستان اسلامی تنظیم نے بھی شامل ہے، اسی کو وجہ بتا کر طالبان سے علیحدگی اختیار کر کے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔‘

حکومت کی جانب سے دولت اسلامیہ کے وجود سے میڈیا کی سطح پر مسلسل انکار ہو رہا ہے لیکن داخلی اطلاعات کے مطابق قومی ایکشن پلان میں اسے بھی ایک خطرے کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی پشتو کے نامہ نگار طاہر خان نے بتایا کہ گذشتہ دنوں پالیسی مشاورت کے ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت دولت اسلامیہ کو بھی ایک خطرہ سمجھ رہی ہے۔

حکومت نے گذشتہ برس قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تمام شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کا بھرپور آغاز کیا۔ اب اس کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان جیسی مرکزی تنظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی دولت اسلامیہ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے گذشتہ دنوں بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اگر وہ طالبان کے مسئلے کو حل کر لیتے ہیں تو ان کے خیال میں کوئی اور دھڑا یہاں نہیں پنپ سکے گا۔ ’آپ جو بھی نام دے دیں یہ لوگ تو ایک ہی ہیں نا۔‘

شدت پسندی کے ڈسے ہوئے پاکستان کے لیے ماہرین کے بقول بہتر یہی ہے وہ اس سے آغاز میں ہی نمٹے ورنہ یہ تیزی سے شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں پھیل سکتی ہے۔

اسی بارے میں