صوابی میں فائرنگ سےدو خواجہ سرا ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption خمیوں میں ایک خواجہ سراء ، ڈرائیور اور ایک ڈولک بجانے والا شامل ہیں۔ تینوں زخمیوں کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر حملہ کر کے دو خواجہ سراؤں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب صوابی کے علاقے سو ڈیر میں یار حسین پولیس سٹشین کی حدود میں پیش آیا۔

یار حسین پولیس سٹشین کے انچارج ابرار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ خواجہ سراؤں کا ایک گروپ کی صورت میں محفل موسیقی ختم ہونے کے بعد واپس جارہے تھے کہ سوڈیر کے علاقے میں تین موٹرسائیکلوں پر سوار چھ ملزمان نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا کہ مسلح افراد خواجہ سراؤں کو اغواء کرنا چاہتے تھے تاہم ان کی جانب سے مزاحمت کرنے پر مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس میں دو خواجہ سرا ہلاک اور تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔

زخمیوں میں ایک خواجہ سرا، ڈرائیور اور ایک ڈھولک بجانے والا شامل ہیں۔ تینوں زخمیوں کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو اغوا کرلیا تھا، تاہم بعد میں انہیں بازیاب کرالیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے حملے میں ملوث پانچ ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا ہے تاہم ایک ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق بظاہر لگتا یہ ہے کہ ملزمان ہلاک ہونے والے خواجہ سراؤں کے عشق میں مبتلا تھے کیونکہ یہ اُن کی ہر محفل موسیقی میں شرکت کرتے تھے۔

ہلاک ہونے والے خواجہ سراؤں کی عمریں 18 سے 20 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور ان میں دو کا تعلق صوابی اور ایک کا پشاور سے ہے۔

مرنے والے خواجہ سراؤں کی لاشیں پشاور سے صوابی منتقل کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں پر حملوں کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال مارچ میں ضلع چارسدہ میں خواجہ سراؤں کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک خواجہ سرا ہلاک ہوگیا تھا۔

اس سے پہلے چارسدہ میں پولیس کے اے ایس آئی نے ایک خواجہ سرا کے ساتھ جنسی تشدد کی کوشش کی تھی، جس پر خواجہ سرا نے پولیس اہلکار سے پستول چھین کر خود کو گولی مار دی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے۔

تاہم اعلیٰ پولیس حکام نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ اے ایس آئی کو معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا۔

اسی بارے میں