’حکومت بتائے کہ سعودیہ سے کیا کمٹمنٹ ہوئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی پارلیمان کی پانچ جماعتوں نے جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے یمن کے مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ سعودی حکومت نے یمن جنگ میں پاکستان سے برّی، بحری اور فضائی تعاون ملنے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

یمن کے تنازع پر پالیسی سازی کے لیے بلایا گیا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس منگل کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ حکومت نے سعودی عرب سے کیا وعدے کیے ہیں

اتنی مدد کرنی چاہیے جتنی ہم برداشت کر سکیں

اعتزاز احسن نے خطاب میں مزید کہا کہ ’ہم حکومت کے ساتھ ہیں تاہم یمن کے بارے میں ہمیں اعتماد میں لیا جائے، مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا تاہم ایوان کو بتایا جائے کہ حکومت نے سعودی عرب سے کیا کیا کمٹمنٹ کی ہے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یمن کے مسئلے پر قومی پالیسی کو واضح کرنا ہو گا۔

’یمن کے مسئلے پر حکومت کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا اور پارلیمان میں اٹھائے گئے سوالات کو بھی مدِنظر رکھنا ہو گا۔‘

انھوں کہا کہ حکومت نے یمن کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا اور اگر یہ لائحہ عمل جاری رہا تو ان کی جماعت حکومت کا ساتھ نہیں دے گی اور حکومت کو یمن کے مسئلے پر سب سے پہلے جنگ بندی کی بات کرنی چاہیے۔

Image caption ’ایوان کو بتایا جائے کہ حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ کیا کیا وعدے کیے ہیں‘

تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یمن کے مسئلے پر وزیرِ دفاع کا بیان واضح نہیں ہے اور پاکستان کو یمن کے حوالے سے دو ٹوک اور واضح پالیسی اپنانا ہو گی۔

’یمن کے بحران پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کی اشد ضرورت ہے اور جب تک اس حوالے سے واضح پالیسی سامنے نہیں آ جاتی تب تک کوئی چیز واضح نہیں ہو سکتی۔‘

پیر کو جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا تو وزیراعظم نواز شریف اجلاس میں موجود نہیں تھے جس پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اجلاس کو چند گھنٹوں کے لیے موخر کرنے کی تجویز دی۔ اجلاس وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو تو اس میں وزیراعظم نواز شریف موجود تھے تاہم انھوں نے ایوان سے خطاب نہیں کیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اجلاس میں شرکت سے پہلے اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں سرکاری بیان کے مطابق ملکی سکیورٹی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ، مسلح افواج کے تینوں سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس سے پہلے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ سعودی حکومت نے یمن جنگ میں پاکستان سے برّی، بحری اور فضائی تعاون ملنے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں پاکستان اس کا ساتھ دے گا اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع نے بتایا کہ سعودی وزیرِ خارجہ نے26 مارچ کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو سعودی عرب کی جانب سے یمن میں کیے جانے والے آپریشن سے آگاہ کیا اور مدد کی درخواست کی۔ اور اسی سلسلے میں 28 مارچ کو سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی وزیراعظم سے رابطہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں پاکستان اس کا ساتھ دے گا‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وزیراعظم نے فوج اور کابینہ کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کی تعریف کی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی حکومت نے گذشتہ دنوں میں اس امید اور ضرورت کا اظہار کیا کہ پاکستان یمن جنگ میں سعودی اتحاد کا حصہ بنے۔

’ایئرکرافٹ، بحری جہازوں اور زمینی فوجی دستوں ان تینوں چیزوں کے لیے پچھلے 12 سے 13 روز میں سعودی عرب نے اپنی ضرورت کا آگاہ کیا ہے۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم نے چار اپریل کو ترکی کا دورہ کیا جبکہ وہ آئندہ دنوں میں بھی مسلم ممالک کا دورہ کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یمن کے معاملے پر بات چیت کے لیے ترکی کے وزیراعظم ایران جا رہے ہیں جبکہ ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف آٹھ اپریل کو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یکم اپریل کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں پانچ سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیاتھا کہ یمن کے مسئلے پر کسی فردِ واحد کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور حکومت کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے۔ اس کے اگلے ہی روز وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تحریک انصاف کی واپسی پر احتجاج

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس جب شروع ہوا تو پاکستان تحریک انصاف کی اسمبلیوں واپسی پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے شدید نعرہ بازی کی۔

اس موقع پر قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ اگر حکومتی اراکین کو تحریک انصاف کی ایوان میں واپسی پر اعتراض ہے تو اپنی حکومت سے جا کر بات کریں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ کے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا نعروں سے استقبال کیا اور سپیکر اور وزرا کے سمجھانے کے باوجود وہ مسلم تحریک انصاف کے خلاف جملے کستے اور طعنے دیتے رہے۔

ابتدا میں تو وفاقی وزرا خاموشی سے بیٹھے یہ سب دیکھتے رہے۔ بلکہ بعض کے چہرے سے تو یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اس صورتحال کا مزا بھی لے رہے ہیں۔

پھر صدر مجلس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزرا کی توجہ اس جانب دلوائی اور انہیں اپنے ارکان کو خاموش کروانے کی ہدایت کی۔ لیکن حکمران جماعت کے ارکان کو خاموش کروانے کی تمام تدبیریں بے سود ثابت ہوئیں۔

نعرے لگتے رہے، ڈیسک بجتے رہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے ارکان عمران خان کی قیادت میں خاموشی سے یہ سب دیکھتے اور سہتے رہے۔

اسی بارے میں