اس بار ماہی گیر نہیں، مہمان آئے

Image caption ان غیر ملکیوں کے استقبال کے لیے متعلقہ سفارت خانوں کے حکام موجود تھے

کراچی کی بندرگاہ پر بھارتی شہری گذشتہ کئی سالوں سے جب بھی اترے ہیں تو ان کی حیثیت قیدی کی ہوتی ہے۔ ہر سال درجنوں بھارتی ماہی گیروں کو پاکستان کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔

پاکستان بحریہ کے جہاز اصلت میں سوار 11 بھارتی شہریوں کے پاس پاکستان کا ویزا نہیں تھا لیکن پھر بھی انھیں مہمان کا درجہ دیا گیا۔

یہ 11 بھارتی شہری 182 افراد کے ساتھ خانہ جنگی کا شکار یمن کے شہر المکلا سے پاکستان بحریہ کے جہاز میں کراچی پہنچے تھے۔

پاکستانی بحریہ کے مشن کمانڈر کموڈور زاہد الیاس نے بتایا کہ جب بھارتی شہریوں کو یہ معلوم ہوا کہ یہ پاکستانی بحریہ کا جہاز ہے تو شاید ان کو تھوڑی ہچکچاہٹ ہوئی تھی لیکن انھوں نے انھیں یقین دلایا کہ ان کے ساتھ بھی وہ ہی رویہ روا رکھا جائے گا جس طرح کسی پاکستانی سے، یہ سن کر وہ جہاز میں سوار ہوئے۔

کموڈور زاہد الیاس کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب یہ لوگ بھارت میں پاکستان کے سفیر ہیں جہاں وہ لوگوں کو بتائیں گے کہ پاکستانی کتنے خوش اخلاق ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کی کتنی مدد کرتے ہیں خصوصاً جب انھیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

Image caption عدن، اب، طائب اور المکلہ میں پاکستانی کمیونٹی کے اسکول ہیں، جن میں زیادہ تر یمنی بچے زیر تعلیم ہیں

بھارتی شہری زیادہ تر المکلا کے آس پاس تیل صاف کرنے کے کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری مائیکل کا کہنا تھا کہ ’وہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے کیونکہ ایک طرف القاعدہ سرگرم ہوگئی ہے تو دوسری طرف حوثی قبائل ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی فضائی بمباری بھی جاری ہے اس وجہ سے صورتحال بہت خراب ہے۔ ان حالات میں ہم پاکستان حکومت کے ممنون ہیں کہ ہمیں مشکل سے نکال کر لائی ہے۔‘

پاکستان بحریہ کا جہاز اصلت 12 سو میل کا سفر طے کر کے کراچی کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہوا۔ بھارتی شہریوں کے علاوہ اس میں آٹھ چینی، آٹھ فلپائنی، چار برطانوی، تین انڈونیشیائی اور دو شامی سوار تھے۔ اس کے علاوہ اس میں کینیڈا، مصر اور اردن کا ایک ایک شہری بھی سوار تھا۔

ان غیر ملکیوں کے استقبال کے لیے متعلقہ سفارت خانوں کے حکام موجود تھے۔

کراچی کے رہائشی نعیم الدین فاروقی نے بتایا کہ صورت حال اس وقت خراب ہوئی جب القاعدہ نے المکلا کی جیل پر حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کرایا، جس کے بعد فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور وہ گھروں تک محدود ہو گئے۔

نعیم نے مزید بتایا کہ ’جیسے جیسے حالات بدتر ہو رہے تھے تو ہمیں یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں ہمیں اغوا تو نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہاں حوثیوں کا زور بڑھ رہا ہے، جبکہ پاکستان کے حوالے سے یہ خبریں آ رہی تھیں کہ وہ سعودی حکومت کی مدد کر رہا ہے۔‘

نوجوان شبیر رضا کا تعلق لیاری سے ہے وہ یمن کے شہر المکلا کی جامعہ الاحقاف میں زیر تعلیم ہیں۔ بقول: ’ان کے وہاں لوگ کہتے تھے کہ آپ یہاں پڑھتے ہو، اساتذہ سے استفادہ کر رہے ہو، آپ اپنی حکومت کو سمجھاؤ کہ یہ مسلمانوں کو الگ کرنے کی جنگ ہے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ شامل نہ ہو۔‘

Image caption یہ 11 بھارتی شہری 182 افراد کے ساتھ خانہ جنگی کا شکار یمن کے شہر المکلہ سے پاکستان بحریہ کے جہاز میں کراچی پہنچے تھے

عدن، اب، طائب اور المکلا میں پاکستانی کمیونٹی کے سکول ہیں، جن میں زیادہ تر یمنی بچے زیر تعلیم ہیں۔

المکلا سکول کی ٹیچر مس سعدیہ بیگ کا کہنا تھا کہ ’وہ بچے جو ان سکولوں میں پڑھتے ہیں انھیں معلوم ہوا کہ ہم جا رہے ہیں تو وہ بہت مایوس ہوئے۔‘

سعدیہ بیگ کا کہنا تھا کہ یمنی لوگ بہت اچھے ہیں جہاں انھیں دشواری یا مشکلات ہوتی تھیں وہ بھرپور مدد کرتے تھے ان حالات میں بھی انھیں باہر ضرورت کی اشیا لا کر دیتے تھے۔

یمن میں پاکستان کے سفیر عمران یوسف نے بتایا کہ پاکستانی سفارت خانے کے پاس 921 پاکستانیوں کی معلومات تھی لیکن حکومت نے 1021 لوگوں کو بخیریت پاکستان پہنچایا ہے۔ اب جو لوگ وہاں ہیں وہ اپنی مرضی سے رہنا چاہتے ہیں۔

’جو جہاز صنعا سے آیا اس میں 80 نشستیں خالی تھیں، پی این ایس اصلت میں 20 سے 22 لوگ آ کر واپس چلےگئے کیونکہ جو لوگ اپنی مرضی کے ساتھ آ رہے ہیں انھیں لایا جا رہا ہے۔‘

پاکستان بحریہ کے حکام کا کہنا ہے پی این ایس شمشیر اس وقت جبوتی میں موجود ہے جو خطے میں اس وقت تک چکر لگاتا رہےگا جب تک تمام پاکستانی بحفاظت وطن نہیں پہنچ جاتے۔

اسی بارے میں