پارلیمان ہی کچھ کرے تو کرے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیا سعودی عرب بھی پاکستان کی اندرونی و بیرونی سالمیت کو لاحق ہر طرح کے موجودہ و ممکنہ خطرے کے موثر تدارک کے لیے غیر مشروط حمایتی ہے یا یہ تعلقات ’صاحب، بی بی اور غلام‘ کے اصول پر ہیں؟

اس سے پہلے کہ پاکستانی پارلیمان یمن کے حوالے سے کسی بنیادی فیصلے پر پہنچے چند نکات کو پیشِ نظر رکھنا پاکستان کی سلامتی کے مستقبل اور علاقائی امن واستحکام کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ کے نام پر اپنے فضائی، بری یا بحری دستے سعودی عرب بھیجنے سے قبل مروجہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں درج ذیل نکات کا اطمینان بہتر ہوگا۔

(اول) کیا پاکستان اور سعودی عرب کےمابین ایسا کوئی ریاستی یا حکومتی معاہدہ ہے جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کو درپیش کسی بھی داخلی و خارجی خطرے کے تدارک کے لیے فوری مشترکہ اقدامات کریں گے؟ یا پھر کوئی ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت سعودی عرب تو پاکستان کی فوری مدد کا پابند نہیں ہوگا البتہ پاکستان سعودی عرب کی داخلی و خارجہ سلامتی کی ضروریات و مطالبات پورے کرنے کا فوری پابند ہوگا؟ کیا ایسا کوئی معاہدہ پہلے سے موجود ہے یا حال ہی میں ہوا ہے یا پھر ہونے والا ہے یا پھر جو بھی دوطرفہ یقین دہانیاں ہیں وہ زبانی ہیں۔

(دوم) کیا یمن کے قانونی صدر منصور ہادی کی حکومت نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ ان کے ملک میں بغاوت کو ختم کرنے کے لیے عسکری مدد دی جائے۔ کیونکہ کسی ایک قانونی انتظامیہ (ہادی حکومت) کے ہوتے کوئی دوسرا ملک (سعودی عرب) کسی تیسرے ملک (پاکستان) سے پہلے ملک (یمن) کے لیے براہ راست مدد طلب نہیں کرسکتا۔

(سوم) پاکستان عرب لیگ یا خلیج تعاون کونسل کا رکن نہیں لہذا وہ دونوں اداروں کے کسی بھی فیصلے میں نہ تو فریق ہے اور نہ پابند۔ پاکستان اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور اقوامِ متحدہ کا رکن ہے اور سعودی عرب کے تحفظ یا یمن کی مدد کے لیے او آئی سی کے فورم یا اقوامِ متحدہ کے فیصلوں پر غور یا عمل درآمد کا مجاز ہے تو پھر پاکستانی پارلیمان کو کسی فریق کا ساتھ دینے کے فیصلے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اسلامی کانفرنس تنظیم کا کوئی رکن ملک یا ممالک اپنے تئیں کوئی فیصلہ کرکے تنظیم کے کسی اور رکن ملک یا ممالک کے خلاف تنظیم کو اعتماد میں لیے بغیر بالا بالا فوجی کاروائی کرسکتے ہیں۔ یا پھر ایسی کسی کارروائی سے پہلے تنظیم کے میکنزم کو باہمی تنازعے کے حل کے لیے استعمال کرنا اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ (جیسا کہ ایران عراق جنگ میں ثالثی کے لیے راستہ اختیار کیا گیا تھا)۔

(چہارم) یمن کے خلاف جو بھی فوجی ایکشن ہو رہا ہے کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس حوالے سے پیشگی رجوع کیا گیا یا فوجی ایکشن کی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کی متعلقہ شقوں کے تحت رکن ممالک کی لازمی ذمہ داری قرار پایا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اقوامِ متحدہ کے کچھ ارکان ایک اور رکن کے خلاف اپنے تئیں فوجی کارروائی کر کے اقوامِ متحدہ کے چارٹر یا بین الاقوامی عدالت انصاف کی قانونی تشریحات سے متصادم غیر قانونی قدم اٹھاتے ہوئے کسی جنگی جرم کے مرتکب ہو رہے ہوں۔

پاکستان کے پاس کیا راستے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پارلیمان کی پہلی ذمہ داری پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات ہیں۔ کوئی بھی ایسا قدم جس سے سرحدوں کو خطرہ لاحق ہو اس بارے میں دس بار سوچ کر قدم اٹھانا سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے

یہ درست ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی خصوصی نوعیت ہے اور پاکستان کے لیے سعودی مطالبات رد کر دینا یا خفگی مول لے لینا مالی، سیاسی و سفارتی لحاظ سے آسان نہیں مگر کسی بھی نازک اور دور رس فیصلے پر پہنچنے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے بجتی ہے یا دنوں ہاتھوں سے۔

کیا سعودی عرب بھی پاکستان کی اندرونی و بیرونی سالمیت کو لاحق ہر طرح کے موجودہ و ممکنہ خطرے کے موثر تدارک کے لیے غیر مشروط حمایتی ہے یا یہ تعلقات ’صاحب، بی بی اور غلام‘ کے اصول پر ہیں؟

کیا پاکستانی پارلیمان کسی فیصلے سے پہلے سعودی عرب سے کسی ایسے کمٹمنٹ کی توقع رکھتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ریاست کی اندرونی لڑائی میں کسی نان سٹیٹ ایکٹر، فرقے یا مخصوص نظریے کے بجائے صرف ریاست سے ریاست کے تعلقات کے اصول کی پاسداری کرے گا؟

کیا پارلیمان طے کرے گی کہ جو بھی عسکری و غیر عسکری تعاون ہوگا وہ ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے اسلامی کانفرنس تنظیم یا اقوامِ متحدہ کے توسط سے یا ان کے چارٹر کی روشنی میں یا پھر باضابطہ دو طرفہ معاہدے کی روشنی میں ہوگا جس میں وضاحت ہو کہ خطرے اور مشترکہ اقدامات کی قانونی تعریف اور فریقین کی اس حوالے سے کیا ذمہ داریاں ہوں گی۔

پارلیمان کی پہلی ذمہ داری پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات ہیں۔ کوئی بھی ایسا قدم جس سے سرحدوں کو خطرہ لاحق ہو اس بارے میں دس بار سوچ کر قدم اٹھانا سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

پاکستان کی جن جن ممالک کی سرحدیں ملتی ہیں کیا ان سے تعلقات اتنے اچھے ہیں کہ پاکستان فوری سمندر پار مطالبات پر توجہ دے سکے؟ اور پاکستانی ریاست جو اس وقت چار محازوں ( فاٹا، اندرونی دہشت گردی، بلوچستان، لائن آف کنٹرول ) کو دیکھ رہی ہے کیا یہ محاز ریاست کے اتنے قابو میں ہیں کہ وہ پانچویں محاز (یمن) کا بوجھ بھی سہار سکے؟

اگر پاکستانی پارلیمان یہ قرار داد منظور کرتی ہے کہ حکومت اور مسلح افواج کی قیادت ملکی مفاد میں جو بھی فیصلہ کریں پارلیمان اس کے ساتھ ہے تو پھر یہ کوئی فیصلہ نہ ہوگا۔ اس فیصلے کے جو بھی مثبت و منفی نتائج سامنے آئیں گے پارلیمان ان سے دامن نہیں جھاڑ سکے گی۔

لہذا یہ پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح طور پر طے کرے کہ کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں تاکہ کل کوئی ایک ادارے یا شخص حسبِ عادت و سابق قربانی کا بکرا نہ قرار پائے۔

اسی بارے میں