جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، چیف جسٹس خود سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ pakistan supreme court
Image caption عدالتی کمیشن کےسربراہ جسٹس ناصر الملک سات ماہ تک قائم مقام الیکشن کمشنر بھی رہے ہیں

پاکستان کے چیف جسٹس ناصر الملک نے سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ اس کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں گے جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان اس کمیشن کے رکن ہوں گے۔

اس کمیشن کا پہلا اجلاس نو اپریل کو سپریم کورٹ میں ہوگا جس میں سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ منظم دھاندلی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کرے گا۔ یہ عدالتی کمیشن پنتالیس روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ حکومت کو بھیجےگا۔

اس عدالتی کمیشن میں صوبہ پنجاب سے کوئی جج نہیں لیاگیا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے جبکہ جسٹس اعجاز افضل خان کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا سے ہے۔

اس عدالتی کمیشن کو سول اور فوجداری عدالتوں کے اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ اس کی تحقیقات کےلیے کسی بھی سرکاری اہلکار کو طلب کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس عدالتی کمیشن کی کارروائی کی کوریج کے لیے میڈیا کو اجازت ہوگی یا نہیں۔

واضح رہے کہ اس عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس ناصر الملک سات ماہ تک قائم مقام الیکشن کمشنر بھی رہے ہیں۔

فخرالدین جی ابراہیم نے بطور چیف الیکشن سنہ 2013 کے عام انتخابات کروائے تھے جن کے تصدق حسین جیلانی اور اس کے بعد جسٹس ناصر الملک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک نے نے ایک بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج ایم اے شاہد صدیقی کی درخواست مسترد کردی تھی جس میں اُنھوں نے سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی وجہ سے اُنھیں کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں تو وہ الیکشن ٹربیونل کے سامنے پیش کرے۔

واضح رہے کہ سابق قائم مقام الیکشن کمشنر انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی طرف سے سنہ دوہزار تیرہ میں ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف مبینہ دھاندلی کے خلاف گذشتہ سال اگست میں احتجاجی تحریک چلائی تھی جس کے بعد اُنھوں نے تین ماہ سے زیادہ عرصہ تک اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد صدارتی آرڈنیننس کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے پاکستان کے چیف جسٹس کو درخواست کی گئی تھی۔

اسی بارے میں