گھر آیا استاد داخلہ مہم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمران خان تعلیمی شعبے میں کئی منصوبوں پر کام کر چکے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے بھر میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے کےلیے ’گھر آیا استاد‘ کے نام سے داخلہ مہم کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت اس سال آٹھ لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بدھ کو پشاور میں اس مہم کا افتتاح کیا۔ اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی وزرا اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داخلہ مہم کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مہم تین ہفتے تک جاری رہے گی اور اس دوران صوبے بھر میں آٹھ لاکھ بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اس مہم کا نام ’گھر آیا استاد‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اساتذہ کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں کہ وہ گھر گھر جا کر والدین اور علاقے کے عمائدین سے ملاقاتیں کریں اور ان کے بچوں کو سکولوں میں داخل کروائیں۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گذشتہ سال بھی سات لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اور حکومت ساڑھے چھ لاکھ سے زائد بچوں کو داخل کرانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں عاطف خان نے کہا کہ تمام اساتذہ داخلہ مہم میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ ہر سکول کی سطح پر ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں، اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ اس دوران بچوں کا وقت ضائع نہ ہو۔

تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات اور ترقی سے متعلق بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیمی شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عمل شروع کر رکھا ہے تاکہ صوبے کا کوئی بھی فرد تعلیم کی بنیادی ضرورت سے محروم نہ ہو۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دوسرے صوبوں کے مقابلے میں تعلیم پر سب سے زیادہ پیسے خرچ کر رہی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا کا کل سالانہ بجٹ 404 ارب روپے بنتا ہے جس میں ایک ارب روپے سے زائد بجٹ تعلیم کے شعبے میں لگایا جا رہا ہے جو کل بجٹ کا 2.8 فیصد ہے۔

انھوں نے کہا کہ تعلیمی بجٹ کی خطیر رقم ترقی کے عمل بھی خرچ کی جا رہی ہے جس میں نئے تعلیمی اداروں کا قیام اور موجودہ سکولوں میں توسیع کرانا جیسے منصوبے شامل ہیں۔

ان کے بقول پرائمری سکول پہلے دو کمروں پر مشتمل ہوا کرتے تھے لیکن اب ہر نیا پرائمری سکول چھ کمروں پر مشتمل ہو گا اور اس میں دیگر سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں 2007 سے لے کر 2012 کے درمیان شدت پسندوں کی طرف سے تعلیمی اداروں پر حملوں کے باعث اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ تعلیمی اداروں میں بدعنوانیوں کے باعث بھی یہ شعبہ زوال کا شکار رہا ہے۔

اسی بارے میں