’ووٹر سوچے گا کہ کہیں ووٹ گلے ہی نہ پڑ جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم اس حلقے کو اپنا مضبوط گڑھ سمجھتی ہے

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخاب تو 23 اپریل کو ہونا ہے لیکن میڈیا میں اسے جس قسم کی کوریج مل رہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مقابلہ محض متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین ہے۔

یہ دو جماعتیں یقیناً بڑی اور اہم ہیں لیکن اس حلقے میں ایک درجن دیگر جماعتوں کے 15 امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اس انتخاب میں تعاون پر بات ہو رہی ہے جس سے یہ ظاہر ہو گا کہ مقابلہ دراصل دو طرفہ، سہ فریقی یا کثیرالجماعتی ہو گا۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان اتحاد اس حلقے کے نتیجے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

حکمراں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل نے اس الیکشن میں امیداوار کھڑے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایم کیو ایم نے، جو اس حلقے کو اپنا مضبوط گڑھ سمجھتی ہے، حیدرآباد کے سابق ناظم کنور نوید کو بطور امیدوار کھڑا کیا ہے جن کا مقابلہ پی ٹی آئی کے عمران اسماعیل سے ہے۔

یہ نشست متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب کے شیڈیول کے اعلان کے بعد یہاں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان واضح کشیدگی دیکھی جاسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جماعتِ اسلامی کے نعیم الرحمان کہتے ہیں کہ اگر رینجرز مستقل تعینات رہے تو لوگ کھل کر ووٹ ڈالیں گے ورنہ ایسا ہوتا مشکل دکھائی دیتا ہے

2004 کے ضمنی انتخاب میں بھی یہاں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کشیدگی کی آج بھی انتہا یہ ہے کہ چھوٹا سا واقعہ بھی اکثر چینلوں پر یوں چھا جاتا ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے یہی صرف دو جماعتیں میدان میں ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ میڈیا کے لیے یہ اچھا ہو نہ ہو دونوں جماعتوں کو اس سے بھرپور فائدہ ہو رہا ہے۔

کراچی میں جماعت اسلامی کو پاکستانی میڈیا کوریج سے یہ شکایت ہے کہ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ 2002 کے انتخابات میں اس حلقے میں ایم کیو ایم نے 54 ہزار ووٹوں سے یہ نشست جیتی جبکہ دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی کے راشد نسیم نے 34 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔

2013 کے عام انتخابات میں جماعت نے اس حلقے میں پولنگ کا دو ڈھائی گھنٹے بعد ہی بائیکاٹ کر دیا تاہم اس وقت تک بھی وہ دس ہزار ووٹ لے چکی تھی۔

کچھ لوگوں کے خیال میں اس بائیکاٹ کی وجہ سے نبیل گبول کو ایک لاکھ 86 ہزار ووٹ ملے اور آج جماعت کے راشد نسیم دوبارہ ایم کیو ایم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان اتحاد اس حلقے کے نتیجے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اصرار تھا کہ جماعت یہاں اجنبی نہیں ہے۔

’نعمت اللہ خان کے وقت بلدیاتی انتخابات میں یہاں کی آٹھ یونین کونسلوں میں سے سات میں جماعت کے لوگ منتخب ہوئے تھے۔ ہم نے تمام تر جبر کے باوجود ایک دن بھی فلاحی کام بند نہیں کیا ہے۔ اس شہر میں ہماری ایک تاریخ ہے۔‘

پی ٹی آئی کو شکایت ہے کہ انھیں انتخابی مہم آزادانہ طور پر چلانے نہیں دی جا رہی۔ جماعت کے رہنما عمران خان جو آج اس حلقے کا دورہ کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ انھیں جان کا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن وہ کسی نو گو ایریا کو تسلیم نہیں کرتے اور حلقے میں جا کر مہم میں حصہ لیں گے۔

جماعت اسلامی کے نعیم الرحمان بھی پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ طے کرنا ہے کہ کون کس کے حق میں بیٹھے گا۔

فی الحال دونوں جماعتیں دوسرے کو میدان چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس بارے میں عمران خان اور جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کے درمیان بات ہونا ابھی باقی ہے جس میں کوئی حتمی حکمت عملی سامنے آئے گی۔

دوسری جانب انتظامیہ کے لیے آزادانہ ماحول میں ضمنی انتخاب منعقد کروانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

جماعتِ اسلامی کے نعیم الرحمان کہتے ہیں کہ اگر رینجرز مستقل تعینات رہے تو لوگ کھل کر ووٹ ڈالیں گے ورنہ ایسا ہوتا مشکل دکھائی دیتا ہے: ’ووٹر یہی سوچے گا کہ کہیں کل اس کا ووٹ اس کے گلے نہ پڑ جائے۔‘

لیکن جماعت کا اس حلقے کو بغیر مضبوط مقابلے کے کسی کو پلیٹ میں رکھ کر دینے کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا۔

اسی بارے میں