تیراہ: شدت پسندی قبائلی سرشت میں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu

ویسے تو وادیِ تیراہ کا نام گذشتہ کئی برس سے انصار الاسلام اور لشکرِ اسلام کے حامیوں کے مابین مسلح جھڑپوں کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ لیکن تقریباً دو برس قبل جب پاکستانی طالبان کے مسلح جتھّے اس سرسبز وادی میں داخل ہوئے اور مقامی آبادی ہنگامی بنیادوں پر نقل مکانی پر مجبور ہوئی تو یہاں سے متعلق خبروں میں بھی شدت آگئی۔

اور جب پاکستانی فوج نے وہاں موجود شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تو ساتھ ہی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے ذرائع ابلاغ کو اطلاعات کی فراہمی کا بھی بندوبست کر دیا۔ لہٰذا اب تیراہ سے کسی جھڑپ یا فضائی بمباری میں مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کی خبریں تقریباً روز ہی موصول ہو رہی ہیں۔

مگر علاقائی حالات اور تاریخ پر نظر رکھنے والوں کے لیے تیراہ کا نام پہلے بھی نامانوس نہیں تھا۔ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور یہاں کے باسیوں کی آزادی سے حد درجہ محبت کے سبب یا تو خود تیراہ میں یا پھر پشاور اور کوہاٹ جیسے بندوبستی علاقوں میں ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جو اس علاقے کی شہرت یا بدنامی کا (زاویۂ نظر کے مطابق) سبب بنتے رہے ہیں۔

وادیِ تیراہ پاکستانی وفاق کے زیرِ انتظام تین قبائلی ایجنسیوں، خیبر، اورکزئی اور کرّم پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا بیشتر حصّہ، جو میدان کہلاتا ہے، آفریدی قبیلے کا مسکن ہے، اور انتظامی لحاظ سے خیبر ایجنسی کی باڑہ تحصیل میں شامل ہے۔ آفریدی قبیلہ آٹھ شاخوں میں بٹا ہوا ہے جن میں سے سات شاخیں دوسرے علاقوں کے علاوہ میدان میں بھی آباد ہیں۔ جبکہ کُکی خیل صرف درہّ خیبر میں آباد ہیں۔

جغرافیائی اعتبار سے تیراہ سپِن غر یا کوہِ سفید کے پہاڑی سلسلے میں واقع سرسبز وادیوں، سنگلاخ پہاڑوں، چشموں، جھرنوں اور قدرتی ندیوں پر مشتمل سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کے درّے اور گھاٹیاں انتہائی تنگ اور دشوار گزار ہیں۔

یہی وہ جغرافیائی اوصاف ہیں جو اس علاقے کو قلعہ نما بناتے ہیں اور یہاں مورچہ بند ہونے والوں کو باہر سے یلغار کرنے والوں پر قدرے فوقیت عطا کرتے ہیں۔

سولھویں صدی میں جب مغل شہنشاہ اکبر نے ہندوستان میں ’دین الہٰی‘ کے نام سے نئے مذہب کی بنیاد رکھی تو ان کی مخالفت میں ایک پختون صوفی عالم پیر روشن بھی میدان میں اترے۔ ان کی تحریک کو تیراہ میں بھی کافی پذیرائی ملی۔ یہاں تک کہ سترھویں صدی کے اوائل میں مغل بادشاہ جہانگیر کو تیراہ میں باقاعدہ لشکر بھیجنا پڑا۔

اسی صدی کے وسط میں مغل بادشاہ عالمگیر سے نبرد آزما ہونے والے خوشحال خان خٹک کا ایک بیٹا جب اپنے باپ کی مخالفت پر اتر آیا تو خوشحال خان کو تیراہ میں آفریدیوں کے ہاں پناہ لینا پڑی۔

1893 میں برٹش انڈیا اور افغانستان کے مابین سرحدی معاہدہ (ڈیورنڈ لائن) طے پایا۔ اس کے نتیجے میں بہت سے قبائل اور ان کی املاک اس سرحدی لکیر کی زد میں آ گئے۔ معاہدے کے وقت نہ تو انگریزوں اور نہ ہی اس وقت کے افغان حکمران نے ان قبائلیوں کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا۔ (یہ کوتاہ اندیش فیصلہ آج بھی پاکستان اور افغانستان کے مابین معمول کے تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے۔)

اس معاہدے کی پیروی میں جب انگریزوں نے قبائلی علاقوں میں سرحدی ستون اور قلعے تعمیر کرنا شروع کیے تو یہاں کے حریت پسند عوام نے اس عمل کو اپنی سرزمین پر فرنگی قبضے سے تعبیر کیا اور جنوبی وزیرستان سے تیراہ تک قبائل جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ 1898-1897 میں آفریدی اور اورکزئی قبائل کا زور توڑنے کے لیے انگریزوں نے تیراہ پر لشکر کشی کر دی۔ یہ مہم ’تیراہ ایکسپی ڈیِشن‘ کے نام سے مشہور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Archives
Image caption مولی ایلس رہائی کے بعد قبائلی مشران کے ساتھ کرسی پر بیٹھی ہوئی ہیں

1923 میں عجب خان آفریدی نے انگریز سپاہیوں کے اپنے گھر پر چھاپہ کو ناموس پر حملہ قرار دے کر انتقام لینے کا اعلان کر دیا۔ چند روز بعد انھوں نے کوہاٹ چھاؤنی پر حملہ کر کے ایک انگریز افسر میجر ایلس کی بیوی کو قتل اور ان کی بیٹی مولی ایلس کو اغوا کر لیا۔ واردات کے بعد عجب خان اور ان کے ساتھی مغویہ کو تیراہ لے گیے۔ کامیاب مذاکرات کے نتیجہ میں مولی کو چند روز بعد رہا کر دیا گیا، مگر اس واقعے نے بھارت میں انگریز سلطنت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

1948 میں کشمیر پر پاکستان بھارت جنگ کے دوران تیراہ سے بڑی تعداد میں آفریدیوں نے قبائلی لشکر میں شمولیت اختیار کی اور کشمیر میں داخل ہو گئے۔

پچھلی صدی کے آخری نصف میں پختونستان تحریک کے سرکردہ آفریدی رہنما، ملک ولی خان کُکی خیل، پاکستان کی جانب سے دباؤ بڑھنے کی صورت میں اکثر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تیراہ میں پناہ لیتے تو یہاں کا نام اخباری سرخیوں میں آتا۔

1995 میں گریڈ 21 کے ایک وفاقی افسر حسین خان کو دو ساتھیوں سمیت درہّ خیبر سے اغوا کر لیا گیا۔ بعد میں اغوا کار انھیں تیراہ لے گئے جہاں انھیں کئی ماہ تک یرغمال رکھا کیا گیا۔ انہیں تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کے بعض دوسرے علاقوں کی طرح تیراہ میں بھی طالبان کی حمایت میں اضافہ ہوا اور کئی نوجوان ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے افغانستان بھی گئے۔ ساتھ ہی علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کا اثر بھی بڑھنے لگا۔

مگر گذشتہ چند برسوں میں تحریک طالبان کے سخت گیر موقف اور پاکستان میں طالبان کارروائیوں میں عام لوگوں کی ہلاکت کی وجہ سے تیراہ میں ان کی حمایت بتدریج کم ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ دو برس قبل جب تیراہ میدان میں پاکستانی طالبان کی آمد کی خبر اُڑی تو کئی خاندان چائے کی بھری پیالیاں چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

فوجی کارروائی کے بعد اگرچہ بہت سے خاندان اپنے آبائی گھروں کو لوٹ گئے ہیں تاہم فوج تیراہ میں کب تک رہ سکے گی اور وہاں کے قبائل اپنے درمیان اسے کب تک برداشت کر سکیں گے، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، کہ بقول پروین شاکر:

کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے

اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

اسی بارے میں