جواد ظریف کی وزیر اعظم سے ملاقات، جی ایچ کیو کا دورہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران یمن جنگ روکنا چاہتا ہے، ہم کسی پر بمباری نہیں کر رہے اور وہاں ہمارے جہاز نہیں ہیں: جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے علاوہ راولپنڈی میں پاکستان فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو میں پاکستان کی عسکری قیادت سے مذاکرات کیے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا کہ چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی معاملات اور سکیورٹی تعاون پر بھی بات چیت کی۔

تحریری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مسلم امّہ کے درمیان اتحاد اور یگانگت پر زور دیا گیا۔

اس ملاقات سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ کو جی ایچ کیو پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ispr
Image caption ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی جنرل راحیل شریف سے جی ایچ کیو میں ملاقات ہوئی

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ نے وزیراعظم نواز شریف سے مشرقِ وسطیٰ خصوصاً یمن کی صورتحال پر بات چیت کی۔

یاد رہے کہ جواد ظریف گذشتہ روز پاکستان پہنچے تھے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں انھوں نے خارجہ نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو چاہیے کہ یمن میں فوری طور جنگ بندی کروائیں اور مذاکرات کے ذریعے حکومت کے قیام میں یمن کے عوام کی مدد کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ ایک ایسے وقت پر پاکستان آئے ہیں جب پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بھی یمن کی جنگ میں پاکستان کے ممکنہ فوجی کردار پر بحث ہو رہی ہے۔

جواد ظریف نے یمن کے بحران کا سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی پر بمباری نہیں کر رہے ہیں، نہ ہی وہاں ہمارے جہاز ہیں۔ ایران جنگ روکنا چاہتا ہے اور ہم یمن میں جنگی بندی کے لیے ہر ممکن طریقے سے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔‘

جواد ظریف نے کہا کہ یمنیوں کو مذاکرات کے ذریعے اپنی حکومت قائم کرنے کا موقع ملنا چاہیے: ’ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس مسئلے کو اسلامی ممالک کے تعاون سے حل کیا جائے۔‘

ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ 22 رکنی وفد پاکستان آیا ہے اور وزیر خارجہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے اُمور پر بات کریں گے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے 25 مارچ کو یمن میں فضائی بمباری کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلے میں اسے متعدد ممالک کی مدد حاصل ہے۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ ایران یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔

اسی بارے میں