’اب چین پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل کرے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے 2009 میں بھارت نے علحیدگی اختیار کر لی تھی

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چین ایران سے آنے والی قدرتی گیس کی پائپ لائن پاکستان کے اندر تعمیر کرے گا۔

وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے دی وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام شروع ہے۔

’ہم اسے بنا رہے ہیں۔ رواں ماہ پاکستان میں چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع دورے کے موقع پر اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔‘

ایران پاکستان گیس پائپ لائن یا پائپ ڈریم

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ایران کے ساتھ پائپ لائن منصوبے میں پیش رفت کی تو اس پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

تاہم 31 مارچ کو ایران کے ساتھ امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کے بعد صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابھی ایران پر عائد امریکی پابندیاں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ عبوری معاہدے کے بعد حتمی معاہدے کا انتظار ہے جس کے بارے میں توقع کی جارہی ہے کہ وہ جون 2015 میں میں عمل میں آئے گا۔

اخبار کے مطابق پاکستان گذشتہ کئی ماہ سے چین کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر گفت و شنید کر رہا ہے۔ پاکستان اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے کم از کم ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کی رقم درکار ہو گئی۔

تہران کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی جانب 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔

اگرچہ پاکستان نے ابھی اس پائپ لائن کو بنانے کا کام شروع نہیں کیا تاہم پاکستان نے گودار سے نواب شاہ تک چین کے تعاون سے گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے بات چیت شروع کر رکھی ہے تاکہ 700 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو ملک میں موجود گیس پائپ لائنوں کے نیٹ ورک سے جوڑا جا سکے۔

اس گیس پائپ لائن منصوبہ ٹیک دس سال قبل سامنے آیا تھا ۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق اس پائپ لائن کو بھارت تک جانا تھا تاہم تہران کا الزام ہے کہ 2009 میں امریکی دباؤ کی وجہ سے بھارت اس منصوبے سے الگ ہوگیا تھا۔

مارچ 2013 میں پاکستان اور ایران کے صدور نے اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح بھی کیا تھا۔

اسی سال مئی میں مسلم لیگ نون کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیرِ پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ایران کے ساتھ کاروبار کی وجہ سے اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خدشے کے باعث کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اس منصوبے میں رقم لگانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تعمیراتی کمپنیاں کام کرنے کو تیار نہیں اور ضروری سازوسامان فروخت کرنے والے ادارے بھی اس منصوبے کے لیے سامان فراہم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ان حالات کے باوجود حکومت پاکستان اس منصوبے کو مردہ تصور نہیں کرتی بلکہ اس میں سرمایہ کاری کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں