کیا سعودی عرب ناراض نہیں ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران عراق جنگ ہو یا کسی اسلامی ملک کے اندر کا خلفشار، پاکستان نے اکثر اوقات غیرجانبدار رہنے کی پالیسی اپنائی ہے ماسوائے افغانستان کے

اگرچہ پاکستان میں کسی بڑے خارجی معاملے پر اتفاق رائے سے پارلیمان نے یمن سے متعلق قرار داد منظور کر لی ہے اور ہر کوئی واہ واہ کر رہا ہے لیکن اس پر سعودی عرب کا کیا ردعمل ہوگا؟

اربوں ڈالر ہماری جھولی میں بغیر کسی وجہ کے ڈال دینے والا اور وہ امریکہ سے ایف 16 جنگی طیارے خریدنے کے لیے بھی پانچ سو ملین دے دینا، کیا وہ ناراض نہیں ہوگا؟ اگرچہ یہ اس طرح کی پہلی مرتبہ سعودی عرب کو ’نہ‘ ہے لیکن حکومت، پارلیمانی جماعتوں اور اکثر سفارت کاروں کی رائے میں شاید وہ خفا نہیں ہوگا۔

اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ سعودی عرب کو شاید پاکستان یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ سرکار آپ کی سالمیت کو ابھی کوئی خطرہ نہیں، لڑائی یمن میں ہو رہی ہے سعودی عرب پر ابھی کسی نے حملے کی نہ تو کوشش کی ہے اور نہ دھمکی دی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان شاید سعودی عرب پر یہ مفروضہ بھی بیچنے میں کامیاب رہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ مل کر سفارتی چٹنی بنائے جس کے ذریعے اس مسئلے کو زیادہ گھمبیر ہونے سے پہلی ہی حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اگر بات یہی ہے تو پھر تو پاکستان کی کیا بات ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو آگے چل کر پاکستان مشکل میں پھنس سکتا ہے۔ پاکستان کو اس مرتبہ شاید ماضی میں مسلمان ممالک کے درمیان تنازعات میں غیرجانبدار رہنے کی روایت نے بچا لیا ہے۔ ایران عراق جنگ ہو یا کسی اسلامی ملک کے اندر کا خلفشار، پاکستان نے اکثر اوقات غیرجانبدار رہنے کی پالیسی اپنائی ہے ماسوائے افغانستان کے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت، پارلیمانی جماعتوں اور اکثر سفارت کاروں کی رائے میں شاید سعودی عرب خفا نہیں ہوگا

اس بحث مباحثے کی ایک بڑی اچھی بات فوج کا سامنے نہ آنا رہا۔ اگرچہ بعض ناقدین کے مطابق اس وقت فوج کا حکومتی معاملات میں عمل دخل کافی زیادہ ہے لیکن ماضی کے برعکس اس مرتبہ فوج نے کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں دیا کہ اس معاملے پر اس کی رائے کیا ہے۔ شاید یہ ایک ایسا قضیہ تھا جس میں قوم، فوج اور حکومت ایک پیج پر ہی تھے۔

فوج اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شریک ضرور تھی اور اس نے اپنی رائے دی بھی ہوگی لیکن وہ کیا تھی عام طور پر نہیں معلوم۔ میڈیا میں اس نے ایسے کوئی ’فیلر‘ نہیں چھوڑے کہ جن سے واضح طور پر معلوم ہوسکے کہ وہ چاہتی کیا ہے۔ گھر میں لڑ لڑ کر لگتا ہے اسے مزید کسی نئے مسئلے میں ٹانگ اڑانے کی خواہش شروع سے نہیں تھی۔ لہذا اس مسئلے کو براستہ پارلیمان حل کرنے میں وہ بھی شامل تھی۔

اب امید کی جاسکتی ہے کہ اب اعلانیہ یا غیراعلانیہ طور پر کوئی فوجی مدد نہیں کی جائے گی۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے اس سے فوج مانگی تھی۔ تاہم یہ نہیں بتایا کہ یہ فوجی اسے دفاعی مقاصد کے لیے یا لڑائی کے لیے چاہیے تھی۔ اکثر اراکین پارلیمان نے بحث کے آغاز سے حکومت پر سعودی فوجی مدد کے لیے درخواست کی نوعیت کی بابت تمام معلومات شیئر نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس کی وضاحت نہ تو وزیر اعظم نے اپنی مختصر تقریر میں کی اور نہ کسی اور نے۔ تو کیا پارلیمان نے یہ فیصلہ سطحی معلومات کی بنیاد پر کیا؟ سینٹر مشاہد حسین سید اس سے مقفق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس اور بعد میں وزیر اعظم سے ملاقات میں تمام خدشات دور کیے گئے ہیں۔

دیکھنا اب یہ ہے کہ پاکستان نے جن سفارتی کوششوں کا آغاز کیا تھا وہ کہاں تک بارآور ثابت ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں